حضرت لقمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کا تعارف:
مشہور مؤرخ محمد بن اسحاق کہتے ہیں کہ حضرت لقمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کا نسب یہ ہے’’ لقمان بن ناعوریا باعور بن ناحور بن تارخ۔ حضرت وہب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کا قول ہے کہ حضرت لقمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ حضرت ایوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کے بھانجے تھے جبکہ مفسر مقاتل نے کہا کہ حضرت ایوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی خالہ کے فرزند تھے ۔ آپ نے حضرت داؤد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا زمانہ پایا اور اُن سے علم حاصل کیا ۔حضرت داؤد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے اعلانِ نبوت سے پہلے فتویٰ دیا کرتے تھے اور جب آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نبوّت کے مَنصب پر فائز ہوئے تو حضرت لقمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے فتویٰ دینا بند کر دیا۔آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے نبی ہونے میں اختلاف ہے، اکثر علماء اسی طرف ہیں کہ آپ حکیم تھے نبی نہ تھے۔(1)
حضرت عبد الله بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’حضرت لقمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نبی نہیں تھے بلکہ وہ غوروفکرکرنے والے اوردولت ِیقین سے مالامال بندے تھے۔ انہیں الله تعالیٰ سے محبت تھی اور الله تعالیٰ بھی ان سے محبت فرماتا تھا اور الله تعالیٰ نے انہیں حکمت کی نعمت عطافرمائی تھی۔ایک مرتبہ دوپہر میں سوتے ہوئے انہیں ندا کی گئی:’’اے لقمان!اگرتم پسند کروتوتمہیں خلیفہ بنادیاجائے تاکہ تم عدل وانصاف کو قائم کرو۔‘‘انہوں نے ندا کا جواب دیتے ہوئے عرض کی:اگرتومجھے اختیارکاحق ہے تومیں عافیت کوقبول کروں گااوراس آزمائش سے بچوں گا اور اگر منصبِ خلافت سنبھالنے کے متعلق قطعی حکم ہے تومیں دل وجان سے حاضرہوں کیونکہ مجھے الله تعالیٰ کے کرم پریہ بھروسہ ہے کہ وہ مجھے غلطی سے بچائے گا۔(2)
حضرت لقمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے دو فضائل:
یہاں حضرت لقمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے فضائل پر مشتمل دو اَحادیث ملاحظہ ہوں ،
(1)…حضرت عبد الرحمن بن یزید بن جابر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بغوی، لقمان، تحت الآیۃ: ۱۲، ۳/۴۲۳، مدارک، لقمان، تحت الآیۃ: ۱۲، ص۹۱۷، ملتقطاً۔
2…تفسیر ثعلبی، لقمان، تحت الآیۃ: ۱۲، ۷/۳۱۲، ابن عساکر، حرف الدال، ذکر من اسمہ داود، داود بن ایشا۔۔۔ الخ، ۱۷/۸۵-۸۶، ملتقطاً۔