Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
478 - 608
منع نہ فرمایا بلکہ عورتوں  کا لحاظ کرتے ہوئے یَا اَنْجَشَۃُ رُوَیْدَ لَا تَکْسِرِ الْقَوَارِیْرَ ارشاد ہواکہ ان کی آواز دلکش ودل نواز تھی، عورتیں  نرم ونازک شیشیاں  ہیں  جنہیں  تھوڑی ٹھیس بہت ہوتی ہے۔ غرض مدارِکار فتنہ کے تحقُّق اور توقُّع پر ہے، جہاں  فتنہ ثابت وہاں  حرمت کا حکم ہے اورجہاں  فتنے کی توقُّع اوراندیشہ ہے وہاں سدِّ ذریعہ کے پیش ِنظر ممانعت کا حکم ہے، جہاں  نہ فتنہ ثابت نہ فتنے کی توقع تو وہاں  نہ حرمت کا حکم ہے نہ ممانعت بلکہ اچھی نیت ہو تو مستحب ہو سکتا ہے۔ بِحَمْدِ الله تَعَالٰی یہ چند سطروں  میں  تحقیق ِنفیس ہے کہ اِنْ شَاءَ الله الْعَزِیْز حق اس سے مُتجاوِز نہیں ۔(1)
	 نوٹ:  یہاں  خلاصے میں  کچھ چیزیں  ترک بھی کردی ہیں ۔
دین ِاسلام سے روکنے اور دور کرنے والوں  کے لئے سامانِ عبرت:
	ہمارے معاشرے میں  غیر مسلموں  اور نام نہاد مسلمانوں  کی ایک تعداد ایسی ہے جو لوگوں  کو دین ِاسلام سے دور رکھنے ،مسلمانوں  کو دینِ اسلام سے دور کرنے اوراس کا مخالف بنانے کے لئے مُنَظَّم انداز میں  کوششیں  کرتے ہیں  اور اس مقصد کے حصول کے لئے ان کے پاس ایک بڑ اذریعہ عورت ہے۔ ایسے لوگ اسلامی تعلیمات کو توڑ مروڑ کرپیش کرتے ہیں  ،جبکہ یہ خود وہ ہیں  جو عورت کی جسم فروشی پر اطمینان محسوس کرتے ہیں  اور ماڈل کا نام دے کر اس کی اداؤ ں  کی قیمت لگانے کو روشن خیالی قرار دیتے ہیں  یعنی عورت کی حفاظت کی جائے اور اسے گھر بیٹھے ہر چیز عزت کے ساتھ مُہَیّا کرنے کا کہا جائے جیسے اسلام کا حکم ہے تو روشن خیال کہلانے والوں  کی طبیعت خراب ہوتی ہے اور بکری، گائے کی طرح اس کے جسم یا اس کے علاوہ اس کے ناچ یا اداؤں  کو فروخت کیلئے پیش کیا جائے تو اِن لوگوں  کی نظر میں  یہ عورت کو اس کا صحیح مقام دینا قرار پاتا ہے۔ 
	حقیقت یہ ہے کہ دین ِاسلام جیسا امن و سلامتی کا داعی مذہب دنیا میں  نہیں  ہے، عورتوں  اور بچوں  کو جتنے حقوق ا س دین میں  دئیے گئے اور ان کے حقوق کی حفاظت کے جو اِقدامات اس دین میں  کئے گئے کسی اور دین میں  اس کی مثال نہیں  ملتی ،اس میں  مقرر کی گئی جرموں  کی سزائیں  انسانوں  کی بقا ،سلامتی اور معاشرے میں  امن و امان کی عَلمبردار ہیں  ۔ایسے تمام لوگوں  کے لئے اس آیت میں  بڑی عبرت ہے کہ اگر یہ اپنی ان ذلیل حرکات سے باز نہ آئے تو الله تعالیٰ کے اس فرمان: ’’اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ‘‘ کے مطابق ذلت کے عذاب کے حق دار ہیں ۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…فتاویٰ رضویہ، لہو ولعب، ۲۴/۷۸-۸۵، ملخصاً۔