Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
479 - 608
وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا وَلّٰى مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا كَاَنَّ فِیْۤ اُذُنَیْهِ وَقْرًاۚ-فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ(۷)
ترجمۂکنزالایمان: اور جب اس پر ہماری آیتیں  پڑھی جائیں  تو تکبر کرتا ہوا پھرے جیسے انہیں  سنا ہی نہیں  جیسے اس کے کانوں  میں  ٹینٹ ہے تو اُسے دردناک عذاب کا مژدہ دو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب اس پر ہماری آیتیں  پڑھی جاتی ہیں  تو تکبر کرتا ہوا پھرجاتا ہے جیسے اس نے ان (آیات) کو سنا ہی نہیں  ، گویا اس کے کانوں  میں بوجھ ہے تو اسے دردناک عذاب کی خوشخبری دے دو۔
{وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا: اور جب اس پر ہماری آیتیں  پڑھی جاتی ہیں ۔} ارشاد فرمایا کہ جب کھیل کی باتیں  خریدنے والے کے سامنے قرآنِ مجید کی آیتیں  پڑھی جاتی ہیں  تواس وقت وہ تکبُّر کرتے ہوئے ایسی حالت بنا لیتا ہے جیسے اس نے ان آیات کو سنا ہی نہیں  ، گویا اس کے کانوں  میں  کوئی بوجھ ہے جس کی وجہ سے وہ سن نہیں  سکتا، تو اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، اسے دردناک عذاب کی خوشخبری دے دیں ۔(1)
قرآنِ مجید کی تلاوت سننے سے متعلق دو اَحکام:
	یہاں  قرآنِ کریم کی تلاوت سننے سے متعلق دو اَحکام ملاحظہ ہوں ،
(1)…قرآنِ کریم ذوق اور شوق سے سننا چاہیے۔ اس کی تلاوت کے وقت دُنْیَوی کاروبار میں  مشغول رہنا اور تلاوت کی پرواہ نہ کرنا کفار کا طریقہ ہے ۔
(2)…قرآنِ عظیم کی تلاوت ہورہی ہو تو سننا فرض ہے ،لہٰذا جہاں  لوگ قرآن شریف سننے سے مجبور ہوں ، کاروبار میں  مشغول ہوں  وہاں  بلند آواز سے تلاوت نہیں  کرنی چاہیے۔یادرہے کہ تلاوت ِقرآن کے اَحکام اور تعلیمِ قرآن کے اَحکام میں  فرق ہے ،ان کی معلومات حاصل کرنے کے لئے فقہ کی کتابوں  کا مطالعہ فرمائیں ۔