(1)… گانے بجانے کا پیشہ کرنے والی عورتوں ، یا بدکارعورتوں اور محل ِفتنہ اَ مْرَدُوں کا گانا۔
(2)… جو چیز گائی جائے وہ مَعْصِیَت پرمشتمل ہو ،مثلاًفحش یاجھوٹ یا کسی مسلمان یا ذمی کافر کی مذمت یا شراب اورزنا وغیرہ فاسقانہ کاموں کی ترغیب یا کسی زندہ عورت خواہ اَمْرَدکے حسن کی یقینی طور پر تعریف یا کسی مُعَیَّن عورت کا اگرچہ مردہ ہو ایسا ذکر جس سے اس کے قریبی رشتہ داروں کو حیا اورعار آئے ۔
(3)… لَہْو و لَعِب کے طور پر سنا جائے اگرچہ اس میں کسی مذموم چیز کا ذکر نہ ہو ۔
یہ تینوں صورتیں ممنوع ہیں اورایسا ہی گانا’’لہو الحدیث ‘‘ہے اس کے حرام ہونے کی کوئی اور دلیل نہ بھی ہو تو صرف یہ حدیث ’’کُلُّ لَعِبِ ابْنِ اٰدَمَ حَرَامٌ اِلَّا ثَلٰـثَۃٌ ‘‘ یعنی ابن ِآدم کا ہر کھیل حرام ہے سوائے تین کھیلوں کے۔‘‘ کافی ہے ۔ان تین صورتوں کے علاوہ وہ گانا جس میں نہ مَزامیر ہوں ،نہ گانے والے محلِ فتنہ ہوں ،نہ لہو ولعب مقصود ہو اورنہ کوئی ناجائز کلام ہو اس سے بھی ان لوگوں کو روکا جائے گا جو فاسق و فاجر اور دنیا کی شہوات میں مست ہوں البتہ نَفسانی خواہشات و برے خیالات سے پاک دلوں والے وہ لوگ جو الله والے ہیں ان کے حق میں یہ بغیر آلاتِ موسیقی والے سادہ اَشعار کا سننا جائز بلکہ مستحب کہئے تو دور نہیں کیونکہ گانا کوئی نئی چیز پیدانہیں کرتا بلکہ دبی بات کو ابھارتا ہے، جب دل میں بری خواہش اوربیہودہ آلائشیں ہوں تو وہ انہیں کو ترقی دے گا اور جوپاک، مبارک ، ستھر ے دل، شہوات سے خالی اور الله تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی محبت سے بھرے ہوئے ہیں ان کے اس شوقِ محمود اور عشقِ مسعود کو افزائش دے گا ۔ان بندگانِ خداکے حق میں اسے ایک عظیم دینی کام ٹھہرانا کچھ بے جانہیں ۔ یہ اس چیز کا بیان تھا جسے عرف میں گانا کہتے ہیں اور اگر حمد و نعت ،منقبت ،وعظ و نصیحت اور آخرت کے ذکر پر مشتمل اَشعار بوڑھے یا جوان مرد خوش اِلحانی سے پڑھیں اور نیک نیت سے سنے جائیں کہ اسے عرف میں گانا نہیں بلکہ پڑھنا کہتے ہیں تو اس کے منع ہونے پر شریعت سے اصلاً دلیل نہیں ہے۔ حضور پُر نور، سیّدِ عالَم صَلَّی الله تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کا حضرت حسان بن ثابت انصاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے لیے خاص مسجد ِاقدس میں منبر رکھنا اوران کا اس پر کھڑے ہو کر نعت ِاَقدس سنانا اور حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اورصحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کاسننا خودصحیح بخاری شریف کی حدیث سے واضح ہے اور عرب میں حُدی کی رسم کا صحابہ وتابعین کے زمانے بلکہ حضورِ اقدس صَلَّی الله تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کے عہد میں رائج رہنا مردوں کے خوش اِلحانی کے جواز پر روشن دلیل ہے، حضرت انجشہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کو حُدی کرنے پر حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے