شخص گانا سننے کے لئے کسی باندی کے پاس بیٹھا،اس کے کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ اُنڈیلا جائے گا۔(1)
حضرت عمربن عبد العزیز رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے بچوں کے استاد کی طرف خط لکھا اور فرمایا:یہ خط الله عَزَّوَجَلَّ کے بندے عمرامیرالمومنین کی جانب سے سہل کی طرف ہے۔ اَمَّابَعْد! میں نے اپنی اولاد کی تربیت کے لیے اپنی معلومات کی بنا پر تمہیں مُنتخب کیاہے، میں نے اپنے بچوں کوتمہارے سپردکردیاہے کسی اورغلام یا کسی خاص مُعتمد کے سپردنہیں کیا۔لہٰذا تم ان کے ساتھ (مناسب و بقدرِ ضرورت) سختی کے ساتھ پیش آؤکیونکہ یہ ان کے آگے بڑھنے کوزیادہ ممکن بنائے گی ،عام لوگوں کی صحبت اختیارنہ کرنے دوکیونکہ یہ غفلت پیداکرتی ہے،زیادہ ہنسنے سے روکوکیونکہ زیادہ ہنسنا دل کو مار ڈالتا ہے۔ تمہاری تعلیم سے سب سے پہلے جس چیزکامیرے بچے اِعتقادرکھیں وہ لَہْو و لَعِب سے نفرت ہونی چاہیے جس کاآغاز شیطان کی جانب سے ہوتاہے اورا س کاانجام رحمن کی ناراضگی ہے۔ اصحاب ِعلم میں سے ثِقَہ لوگوں سے مجھے یہ خبرپہنچی ہے کہ لَہْو و لَعِب کے آلات کاسننااوران کاشیْفتہ ہونایہ دل میں اسی طرح نفاق پیداکرتاہے جس طرح پانی گھاس اگاتا ہے۔ میری زندگی کی قسم ،ان مقامات پرحاضرہونے کوترک کرکے اپنے آپ کو بچانا دانشمندوں کے لیے زیادہ آسان ہے بنسبت اس کے کہ وہ اپنے دل میں نفاق کوقائم رکھیں ۔جب وہ ان گانوں سے جداہوتاہے تواسے یقین نہیں ہوتا کہ اس کے کانوں نے جوسناہے وہ اس سے فائد ہ بھی حاصل کرسکتاہے۔ ان بچوں میں سے ہرایک کوقرآنِ حکیم کے ایک حصہ سے سبق شروع کراؤ۔وہ اس کی قراء ت میں خوب مضبوط ہو۔(2)
گانے کی مختلف صورتیں اور ان کے احکام:
فتاویٰ رضویہ کی 24ویں جلد میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ الله تَعَالٰی عَلَیْہِ نے گاناسننے اور سنانے سے متعلق انتہائی تحقیقی کلام فرمایا ہے، یہاں اس کا خلاصہ درج ذیل ہے
مَزامیر یعنی لَہْو و لَعِب کے آلات لہو ولعب کے طور پر سننا اور سنانا بلاشبہ حرام ہیں ، ان کی حرمت اولیاء اورعلماء دونوں کے کلماتِ عالیہ میں واضح ہے ۔ ان کے سننے سنانے کے گناہ ہونے میں شک نہیں کہ اصرارکے بعد گناہِ کبیرہ ہے۔
مزامیر کے بغیر محض سننے کی چند صورتیں یہ ہیں :
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ابن عساکر، حرف المیم، ۶۰۶۴-محمد بن ابراہیم ابوبکر الصوری، ۵۱/۲۶۳۔
2…درمنثور، لقمان، تحت الآیۃ: ۶، ۶/۵۰۶۔