شامل ہونے کی بھرپور کوشش کرے
(2)…جب تک الله تعالیٰ کسی کو ہدایت نہ دے تب تک وہ ہدایت نہیں پاسکتا،لہٰذا ہر ایک کو چاہئے کہ وہ الله تعالیٰ سے ہدایت طلب کرتا رہے اور نیک اعمال کی توفیق مانگتا رہے ۔
وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَهْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ ﳓ وَّ یَتَّخِذَهَا هُزُوًاؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ(۶)
ترجمۂکنزالایمان: اور کچھ لوگ کھیل کی بات خریدتے ہیں کہ الله کی راہ سے بہکادیں بے سمجھے اور اُسے ہنسی بنالیں اُن کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور کچھ لوگ کھیل کی باتیں خریدتے ہیں تاکہ بغیر سمجھے الله کی راہ سے بہکادیں اورانہیں ہنسی مذاق بنالیں ۔ان کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔
{وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَهْوَ الْحَدِیْثِ: اور کچھ لوگ کھیل کی باتیں خریدتے ہیں ۔} شانِ نزول: یہ آیت نضر بن حارث بن کلدہ کے بارے میں نازل ہوئی جو کہ تجارت کے سلسلے میں دوسرے ملکوں کا سفر کیا کرتاتھا۔ اس نے عَجمی لوگوں کی قصے کہانیوں پر مشتمل کتابیں خریدی ہوئی تھیں اوروہ کہانیاں قریش کو سناکر کہا کرتا تھا کہ محمد ( مصطفیٰ صَلَّی الله تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) تمہیں عاد اورثمود کے واقعات سناتے ہیں اور میں تمہیں رستم ،اسفند یار اورایران کے شہنشاؤں کی کہانیاں سناتا ہوں ۔ کچھ لوگ اُن کہانیوں میں مشغول ہوگئے اور قرآنِ پاک سننے سے رہ گئے تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور ارشاد فرمایا گیا: ’’کچھ لوگ کھیل کی باتیں خریدتے ہیں تاکہ جہالت کی بنا پر لوگوں کو اسلام میں داخل ہونے اور قرآنِ کریم سننے سے روکیں اور الله تعالیٰ کی آیات کا مذاق اڑائیں ،ایسے لوگوں کے لیے ذِلّت کا عذاب ہے۔(1)
’’لَهْوَ الْحَدِیْثِ‘‘ کی وضاحت:
لَہْو یعنی کھیل ہر اس باطل کو کہتے ہیں جو آدمی کو نیکی سے اور کام کی باتوں سے غفلت میں ڈالے۔ اس میں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، لقمان، تحت الآیۃ: ۶، ۳/۴۶۸، مدارک، لقمان، تحت الآیۃ: ۶، ص۹۱۵-۹۱۶، ملتقطاً۔