انمول خزانوں سے مالامال ہے ۔لہٰذامومن کو اسی حکمت و دانش میں مشغول ہونا چاہیے اوراسے چھوڑکرفضول قسم کے قصے کہانیوں میں لگے رہنامومن کی شان نہیں ۔
الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَؕ(۴) اُولٰٓىٕكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(۵)
ترجمۂکنزالایمان: وہ جو نماز قائم رکھیں اور زکوٰۃ دیں اور آخرت پر یقین لائیں ۔ وہی اپنے رب کی ہدایت پر ہیں اور انہیں کا کام بنا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: وہ جو نماز قائم رکھتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں ۔ وہی اپنے رب کی ہدایت پر ہیں اور وہی کامیاب ہونے والے ہیں ۔
{اَلَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ: وہ جو نماز قائم رکھتے ہیں ۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کاخلاصہ یہ ہے کہ نیک لوگ وہ ہیں جو نماز کو اس کی تمام شرائط اور حقوق کے ساتھ ہمیشہ ادا کرتے ہیں اور اپنے مالوں میں فرض ہونے والی زکوٰۃ اس کے حقداروں کو دیتے ہیں اور وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے،اعمال کا حساب ہونے اور اعمال کی جزاو سزا میں شک یا انکار نہیں کرتے بلکہ اس پر یقین رکھتے ہیں ۔جن کے یہ اوصاف ہیں وہی لوگ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے عطا کی گئی ہدایت پر ہیں اور وہی لوگ قیامت کے دن اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ سے ثواب حاصل کر کے حقیقی طور پر کامیاب ہونے والے ہیں ۔(1)
سورۂ لقمان کی آیت نمبر4اور5سے معلوم ہونے والی باتیں :
ان آیات سے دو باتیں معلوم ہوئیں ،
(1)… ہر عقل مند انسان کو چاہئے کہ وہ نیک لوگوں کے اوصاف اپنا کر حقیقی کامیابی حاصل کرنے والے حضرات میں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…روح البیان، لقمان، تحت الآیۃ: ۴-۵، ۷/۶۳-۶۴، تفسیر طبری، لقمان، تحت الآیۃ: ۴-۵، ۱۰/۲۰۱، ملتقطاً۔