دونوں سورتوں میں متعدد مَضامین مُشترک ہیں جیسے الله تعالیٰ نے بیان کیا کہ کفار و مشرکین پر جب کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ الله تعالیٰ کی بارگاہ میں مُضْطَرِب ہو کر دعائیں کرتے ہیں اور جب ان سے وہ مصیبت ٹل جاتی ہے تو وہ الله تعالیٰ کے ساتھ کفر وشرک کرنے لگ جاتے ہیں ۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ترجمۂکنزالایمان: الله کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: الله کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔
الٓمّٓۚ(۱) تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِۙ(۲) هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّلْمُحْسِنِیْنَۙ(۳)
ترجمۂکنزالایمان: یہ حکمت والی کتاب کی آیتیں ہیں ۔ہدایت اور رحمت ہیں نیکوں کے لیے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: الم۔ یہ حکمت والی کتاب کی آیتیں ہیں ۔ نیکوں کیلئے ہدایت اور رحمت ہیں ۔
{الٓمّٓۚ} یہ حروفِ مُقَطَّعات میں سے ایک حرف ہے،ا س کی مراد الله تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔
{تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِ: یہ حکمت والی کتاب کی آیتیں ہیں ۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اس سورت کی آیتیں اس کتاب کی آیتیں ہیں جو حکمت والی ہے اور نیک اعمال کرنے والوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہیں ۔(1)
قرآنِ کریم کی شان:
معلوم ہو اکہ قرآنِ مجید ایسی عظیم الشّان کتاب ہے کہ اس میں فلاح و کامیابی حاصل کرنے کے تمام ترسامان موجود ہیں اور نیک لوگ اس کا دامن مضبوطی سے تھام کر گمراہی اور عذاب سے بچ سکتے ہیں ، نیزیہ کتاب حکمت کے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…جلالین، لقمان، تحت الآیۃ: ۲-۳، ص۳۴۵، روح البیان، لقمان، تحت الآیۃ: ۲-۳، ۷/۶۲-۶۳، ملتقطاً۔