(2)…کائنات کی تخلیق بیان کرکے الله تعالیٰ نے اپنی قدرت کا بیان فرمایا ہے۔
(3)… الله تعالیٰ نے اپنے بَرگُزیدہ بندے حضرت لقمان عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کا واقعہ بیان کیا کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو کیا نصیحتیں کیں ، اور اس سے مقصود لوگوں کو ہدایت دینا ہے کہ وہ الله تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا چھوڑ دیں ، ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کریں ،ہر طرح کے صغیرہ و کبیرہ گناہوں سے بچیں ،نماز قائم کریں ،نیکی کی دعوت دیں اور برائی سے منع کریں ،تکبُّر سے بچیں اور عاجزی و اِنکساری اختیار کریں ،زمین پر نرمی سے چلیں اور اپنی آوازیں ہلکی رکھیں ۔
(4)… الله تعالیٰ کی توحید کے دلائل کا مُشاہدہ کرنے کے باوجود اپنے آباؤاَجداد کی پیروی میں شرک پر قائم رہنے والے مشرکین کی سرزَنِش کی گئی اور الله تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں کا انکار کرنے پر ان کی مذمت بیان کی گئی اور مشرکین کو یہ بتایا گیا کہ نجات کا واحد راستہ الله تعالیٰ کی رضا کے لئے اسلام قبول کرنا اور نیک اعمال کرنا ہے۔
(5)…کفار کے قول اور عمل میں تضاد کو بیان کیا گیا کہ وہ الله تعالیٰ کے خالق ہونے کا اقرار کرتے ہیں لیکن عبادت کا مستحق ہونے میں بتوں کواس کا شریک ٹھہراتے ہیں حالانکہ بے شمار دلائل سے یہ بات ثابت ہے کہ عبادت کا مستحق صرف الله تعالیٰ ہے اور اس کے علاوہ اور کوئی عبادت کئے جانے کا حقدار ہر گز نہیں ہے۔
(6)… الله تعالیٰ کی قدرت پر دن اور رات کے آنے جانے سے،چاند اور سورج کو مُسَخَّر کئے جانے سے اور سمندروں میں کشتیوں کی رَوانی سے اِستدلال کیاگیا۔
(7)…اس سورت کے آخر میں تقویٰ و پرہیز گاری کا حکم دیاگیا،قیامت کے دن کے عذاب سے ڈرایا گیا جو کہ بہر صورت آئے گا اور یہ بتایا گیا کہ مخصوص پانچ غیبی چیزوں کا ذاتی علم الله تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے اور الله تعالیٰ ہر چیز سے خبردار ہے۔
سورۂ روم کے ساتھ مناسبت:
سورۂ لقمان کی اپنے سے ماقبل سورت ’’روم‘‘ کے ساتھ ایک مناسبت یہ ہے کہ سورۂ روم کے آخر میں اور سورۂ لقمان کی ابتداء میں قرآن پاک کی صفات بیان کی گئی ہیں ۔دوسری مناسبت یہ ہے کہ دونوں سورتوں میں الله تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا کہ مسلمان مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں ۔تیسری مناسبت یہ ہے کہ