لَا یَعْلَمُوْنَۗۙ(۳۰)
ترجمۂکنزالایمان: تو اپنا منہ سیدھا کرو الله کی اطاعت کے لئے ایک اکیلے اسی کے ہو کر الله کی ڈالی ہوئی بنا جس پر لوگوں کوپیدا کیا الله کی بنائی چیز نہ بدلنا یہی سیدھا دین ہے مگر بہت لوگ نہیں جانتے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو ہرباطل سے الگ ہو کر اپنا چہرہ الله کی اطاعت کیلئے سیدھا رکھو۔ (یہ) الله کی پیدا کی ہوئی فطرت (ہے) جس پر اس نے لوگوں کوپیدا کیا ۔ الله کے بنائے ہوئے میں تبدیلی نہ کرنا۔ یہی سیدھا دین ہے مگر بہت سے لوگ نہیں جانتے۔
{فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا: تو ہرباطل سے الگ ہو کر اپنا چہرہ الله کی اطاعت کیلئے سیدھا رکھو۔} اس آیت میں الله تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے فرمایا کہ جب معاملہ واضح ہو گیا، الله تعالیٰ کی وحدانیّت (روزِ روشن کی طرح) عیاں ہو چکی اور بہت سے مشرک اپنے ضدوعداوت کی وجہ سے ہدایت حاصل نہ کریں گے تو آپ ان مشرکوں کی طرف کوئی اِلتفات نہ فرمائیں اور الله تعالیٰ کے دین پر خلوص،اِستقامت اور اِستقلال کے ساتھ قائم رہیں۔(1)
{فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْهَا: الله کی پیدا کی ہوئی فطرت جس پر اس نے لوگوں کوپیدا کیا۔} اس آیت میں فطرت سے مراد دین ِاسلام ہے اور معنی یہ ہے کہ الله تعالیٰ نے مخلوق کو ایمان پر پیدا کیا،جیسا کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی حدیث میں ہے ’’ہر بچہ فطرت پر پیدا کیا جاتا ہے۔(2)
یعنی اسی عہد پر پیدا کیا جاتاہے جو الله تعالیٰ نے ان سے ’’اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ‘‘ فرما کر لیا ہے،تو دنیامیں جو بھی بچہ پیدا ہوتا ہے وہ اسی اقرار پر پیدا ہوتا ہے اگرچہ بعد میں وہ الله تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کی عبادت کرنے لگ جائے ۔
بعض مفسرین کے نزدیک فطرت سے مراد خِلقَت ہے اور معنی یہ ہیں کہ الله تعالیٰ نے لوگوں کو توحید اور دین ِاسلام قبول کرنے کی صلاحیت کے ساتھ پیدا کیا ہے اور فطری طور پر انسان نہ ا س دین سے منہ موڑ سکتا ہے اور نہ ہی اس کا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تفسیرکبیر، الروم، تحت الآیۃ: ۳۰، ۹/۹۸، خازن، الروم، تحت الآیۃ: ۳۰، ۳/۴۶۳، ملتقطاً۔
2…بخاری، کتاب الجنائز، باب اذا اسلم الصبی فمات ہل یصلی علیہ۔۔۔ الخ، ۱/۴۵۷، الحدیث: ۱۳۵۸، مسلم، کتاب القدر، باب کلّ مولود یولد علی الفطرۃ۔۔۔ الخ، ص۱۴۲۸، الحدیث: ۲۲(۲۶۵۸)۔