انکار کر سکتا ہے کیونکہ یہ دین ہر اعتبار سے عقلِ سلیم سے ہم آہنگ اور صحیح فہم کے عین مطابق ہے اور لوگوں میں سے جو گمراہ ہو گا وہ جنّوں اور انسانوں کے شَیاطین کے بہکانے سے گمراہ ہوگا۔(1)
حضرت عیاض بن حمار رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’( الله تعالیٰ فرماتا ہے)میں نے اپنے تمام بندوں کواس حال میں پیدا کیا کہ وہ باطل سے دور رہنے والے تھے، بے شک ان کے پاس شیطان آئے اور ان کو دین سے پھیر دیا اور جو چیزیں میں نے ان پر حلال کی تھیں وہ انہوں نے ان پر حرام کر دیں اور ان کو میرے ساتھ شرک کرنے کا حکم دیا حالانکہ میں نے اس شرک پر کوئی دلیل نازل نہیں کی۔(2)
حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ہر بچہ فطرت پر پیدا کیا جاتا ہے،پھر اس بچے کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنالیتے ہیں ۔(3)
نوٹ:یاد رہے کہ دُنْیَوی اَحکام یا اُخروی نجات میں فطری ایمان کا اعتبار نہیں بلکہ صرف شرعی ایمان معتبر ہے۔
{لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ: الله کی بنائی ہوئی چیزمیں تبدیلی نہ کرنا۔} اس کا ایک معنی یہ ہے کہ تم شرک کر کے الله تعالیٰ کے دین میں تبدیلی نہ کرو بلکہ اسی دین پر قائم رہو جس پر اس نے تمہیں پیدا کیا ہے۔دوسرا معنی یہ ہے کہ الله تعالیٰ نے جس کامل خِلقَت پر تمہیں پیدا فرمایا ہے تم اس میں تبدیلی نہ کرو۔
{ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ: یہی سیدھا دین ہے۔} یعنی الله تعالیٰ کا دین ہی سیدھا دین ہے جس میں کوئی ٹیڑھا پن نہیں مگر بہت سے لوگ اس کی حقیقت کو نہیں جانتے تو اے لوگو! تم اسی دین پر قائم رہو ۔
مُنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ وَ اتَّقُوْهُ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۙ(۳۱)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، الروم، تحت الآیۃ: ۳۰، ۳/۴۶۳، مدارک، الروم، تحت الآیۃ: ۳۰، ص۹۰۸، روح المعانی، الروم، تحت الآیۃ: ۳۰، ۱۱/۵۶، ملتقطاً۔
2…مسلم، کتاب الجنّۃ وصفۃ نعیمہا واہلہا، باب الصفات التی یعرف بہا فی الدنیا اہل الجنّۃ واہل النار، ص۱۵۳۲، الحدیث: ۶۳(۲۸۶۵)۔
3…بخاری، کتاب الجنائز، باب اذا اسلم الصبی فمات ہل یصلی علیہ۔۔۔ الخ، ۱/۴۵۷، الحدیث: ۱۳۵۸، مسلم، کتاب القدر، باب کلّ مولود یولد علی الفطرۃ۔۔۔ الخ، ص۱۴۲۸، الحدیث: ۲۲(۲۶۵۸)۔