Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
441 - 608
ترجمۂکنزُالعِرفان: الله نے تمہارے لئے خود تمہارے اپنے حال سے ایک مثال بیان فرمائی ہے (وہ یہ کہ) ہم نے تمہیں  جو رزق دیا ہے کیا تمہارے غلاموں  میں  سے کوئی اس میں  تمہارا اس طرح شریک ہے کہ تم اور وہ اس رزق میں  برابر شریک ہوجاؤ۔ تم ان غلاموں  (کی شرکت) سے اسی طرح ڈرتے ہو جیسے تم آپس میں  ایک دوسرے سے ڈرتے ہو۔ ہم عقل والوں  کے لئے اسی طرح مفصل نشانیاں  بیان فرماتے ہیں ۔
{ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِكُمْ: الله نے تمہارے لئے خود تمہارے اپنے حال سے ایک مثال بیان فرمائی ہے۔} اس آیت میں  الله تعالیٰ نے ان لوگوں  کے لئے ایک مثال بیان فرمائی ہے جو مخلوق میں  سے کسی کو الله تعالیٰ کا شریک قرار دیتے ہیں ۔اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اے مشرکو! الله تعالیٰ نے تمہارے لئے خود تمہارے اپنے حال سے ایک مثال بیان فرمائی ہے اوروہ مثال یہ ہے کہ ہم نے تمہیں  جو مال و دولت اور رزق دیا ہے کیا تمہارے غلاموں  میں  سے کوئی اس میں  تمہارا اس طرح شریک ہے کہ آقا اور غلام کو اس مال و مَتاع میں  تَصَرُّف کرنے کا یکساں  حق حاصل ہو اور ایسا حق ہو کہ تم اپنے مال و متاع میں  ان غلاموں  کی اجازت کے پابند ہو کہ ان کی اجازت کے بغیر تَصَرُّف کرنے سے اسی طرح ڈرو جیسے تم آپس میں  ایک دوسرے (کے مشترکہ مال میں  بغیر اجازت تصرف کرنے) سے ڈرتے ہو۔(1)
	دوسری تفسیر یہ ہے کہ الله تعالیٰ نے تمہارے لئے خود تمہارے اپنے حال سے ایک مثال بیان فرمائی ہے اور وہ مثال یہ کہ ہم نے تمہیں  جو مال و اَسباب دیا ہے، کیا تمہارے غلاموں  میں  سے کوئی اس میں  تمہارا اس طرح شریک ہے کہ تم اور وہ اس مال و اَسباب میں  برابر کے شریک ہوں ؟ حالانکہ تمہارا حال تو یہ ہے کہ تم اپنے مال و اَسباب میں  ان غلاموں  کے شریک ہونے سے اسی طرح ڈرتے ہو جیسے تم آزادلوگوں  کے اپنے مال میں  شریک ہونے سے ڈرتے ہو۔ خلاصہ یہ ہے کہ جب تم کسی بھی صورت میں  اپنے غلاموں  کو اپنا شریک بنانا پسند نہیں  کرتے تو الله تعالیٰ کی مخلوق کو اس کا شریک کیسے قرار دیتے ہو؟ حالانکہ جنہیں  تم اپنا معبود قرار دیتے ہو وہ سب تو اس کے بندے اور مملوک ہیں ۔
{كَذٰلِكَ: اسی طرح۔} یعنی جس طرح ہم نے یہاں  مُفَصَّل نشانی بیان فرمائی اسی طرح ہم ان لوگوں  کے لئے مفصل 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…جلالین، الروم، تحت الآیۃ: ۲۸، ص۳۴۳، مدارک، الروم، تحت الآیۃ: ۲۸، ص۹۰۷، ابو سعود، الروم، تحت الآیۃ: ۲۸، ۴/۲۷۷-۲۷۸، ملتقطاً۔