’’وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَاِذَا هُمْ مِّنَ الْاَجْدَاثِ اِلٰى رَبِّهِمْ یَنْسِلُوْنَ‘‘(1)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور صورمیں پھونک ماری جائے گی تو اسی وقت وہ قبروں سے اپنے رب کی طرف دوڑتے چلے جائیں گے۔
اور صور کے بارے میں فرماتا ہے:
’’اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ‘‘(2)
ترجمۂکنزُالعِرفان: وہ تو صرف ایک چیخ ہوگی تو اسی وقت وہ سب کے سب ہمارے حضور حاضر کردئیے جائیں گے۔
اور فرماتا ہے:
’’فَاِنَّمَا هِیَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌۙ(۱۳) فَاِذَا هُمْ بِالسَّاهِرَةِ‘‘(3)
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو وہ (پھونک) تو ایک جھڑکنا ہی ہے۔ تو فوراً وہ کھلے میدان میں آپڑے ہوں گے۔
{وَ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ: اور اسی کی ملکیت میں ہیں جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہیں ۔} یعنی آسمانوں اورزمین میں موجود ہر چیز کا حقیقی مالک صرف الله تعالیٰ ہے اور اس ملکیت میں کو ئی دوسرا کسی طرح بھی اس کا شریک نہیں اور ان میں موجود ہر چیز الله تعالیٰ کے زیرِ حکم ہے۔(4)
وَ هُوَ الَّذِیْ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَ هُوَ اَهْوَنُ عَلَیْهِؕ-وَ لَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِۚ-وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠(۲۷)
ترجمۂکنزالایمان: اور وہی ہے کہ اوّل بناتا ہے پھر اُسے دوبارہ بنائے گا اور یہ تمہاری سمجھ میں ا س پر زیادہ آسان ہونا چاہئے اور اُسی کے لئے ہے سب سے بر تر شان آسمانوں اور زمین میں اور وہی عزت و حکمت والا ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…یٰس:۵۱۔
2…یٰس:۵۳۔
3…النازعات:۱۳،۱۴۔
4…روح البیان، الروم، تحت الآیۃ: ۲۶، ۷/۲۶۔