Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
438 - 608
اور ارادے سے ہے۔دوسرا معنی یہ ہے کہ الله تعالیٰ کے حکم سے آسمان اور زمین بغیر کسی سہارے کے قائم ہیں ۔یہ معنی حضرت عبد الله بن عباس اور حضرت عبد الله بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ سے منقول ہے۔(1)
	آسمان و زمین کا ا س طرح قائم ہونااس بات کی دلیل ہے کہ انہیں  قائم کرنے والا کوئی ایک ہے اور وہ اسباب سے بے نیاز ہے اور وہ صرف الله تعالیٰ ہے جس کے حکم سے یہ دونوں  قائم ہیں  ۔
{ثُمَّ اِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً ﳓ مِّنَ الْاَرْضِ: پھر جب تمہیں  زمین سے ایک ند افرمائے گا۔} یعنی الله تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں  میں  سے ایک یہ ہے کہ جب تمہیں  قبروں  سے ایک ندا فرمائے گا تواسی وقت تم الله تعالیٰ کے حکم سے اپنی قبروں  سے زندہ ہو کر نکل پڑو گے ۔
ندا فرمانے اور قبروں  سے زندہ ہو کر نکلنے کی صورت:
	ندا فرمانے اور قبروں  سے زندہ ہو کر نکلنے کی صورت یہ ہو گی کہ حضرت اسرافیل عَلَیْہِ السَّلَام قبر والوں  کو اُٹھانے کے لئے (دوسری بار) صور پھونکیں  گے اور کہیں  گے کہ اے قبر والو! کھڑے ہو جاؤ، تو اَوّلین وآخرین میں  سے کوئی ایسا نہ ہوگا جو نہ اُٹھے۔(2)
	جیسا کہ ایک اور مقام پر الله تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ
’’وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُؕ-ثُمَّ نُفِخَ فِیْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُمْ قِیَامٌ یَّنْظُرُوْنَ‘‘(3)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اورصور میں پھونک ماری جائے گی تو  جتنے آسمانوں  میں  ہیں  اور جتنے زمین میں  ہیں  سب بیہوش  ہو جائیں  گے مگر جسے الله چاہے پھر دوسری مرتبہ اس میں پھونک ماری جائے گی تواسی وقت وہ دیکھتے ہوئے کھڑے  ہوجائیں  گے۔
	 اور فرماتا ہے کہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تفسیرکبیر، الروم، تحت الآیۃ: ۲۵، ۹/۹۴، روح البیان، الروم، تحت الآیۃ: ۲۵، ۷/۲۵، خازن، الروم، تحت الآیۃ: ۲۵، ۳/۴۶۲، ملتقطاً۔
2…جلالین، الروم، تحت الآیۃ: ۲۵، ص۳۴۲، مدارک، الروم، تحت الآیۃ: ۲۵، ص۹۰۶، ملتقطاً۔
3…زمر:۶۸۔