Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
437 - 608
سے بنجر زمین سرسبز وشاداب ہو کر لہلہانے لگتی ہے ،کھیتیاں  پھلنے پھولنے لگتی اورباغات میں  درخت پھلوں  سے بھرنے لگتے ہیں ،یہ چیزیں  دیکھ کر حقیقی طور پر غورو فکر کرنے والے اس نظام کو چلانے والے کی معرفت حاصل کرتے ہیں  کہ برس ہا برس سے زمینوں  کی سیرابی اوران کی سرسبزی و شادابی کا یہی نظام ہے اور ا س نظام کے تَسَلسُل اور یکسانِیّت سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسے بنانے والا اور اسے چلانے والا موجود ہے اور وہ واحد ہے اور ا س کی قدرت کامل ہے اور اس میں یہ نشانی بھی ہے کہ الله تعالیٰ جس طرح مردہ زمین کو زندہ فرماتا ہے اسی طرح ایک دن مردہ انسانوں  کو بھی زندہ فرمائے گا۔(1)
وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ تَقُوْمَ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ بِاَمْرِهٖؕ-ثُمَّ اِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً ﳓ مِّنَ الْاَرْضِ اِذَاۤ اَنْتُمْ تَخْرُجُوْنَ(۲۵)وَ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ(۲۶)
ترجمۂکنزالایمان: اور اس کی نشانیوں  سے ہے کہ اس کے حکم سے آسمان اور زمین قائم ہیں  پھر جب تمہیں  زمین سے ایک ند افرمائے گا جبھی تم نکل پڑو گے۔ اور اسی کے ہیں  جو کوئی آسمانوں  اور زمین میں  ہیں  سب اس کے زیرِ حکم ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اس کی نشانیوں  سے ہے کہ اس کے حکم سے آسمان اور زمین قائم ہیں پھر جب تمہیں  زمین سے ایک ند افرمائے گا جبھی تم نکل پڑو گے۔ اور اسی کی ملکیت میں  ہیں  جو کوئی آسمانوں  اور زمین میں  ہیں  سب اس کے زیرِ حکم ہیں ۔
{وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ: اور اس کی نشانیوں  سے ہے۔} اس آیت میں  الله تعالیٰ نے خارجی کائنات کے ان اوصاف سے اپنی قدرت اور وحدانیّت پر اِستدلال فرمایا جو جدا نہیں  ہوتے ۔اس آیت کا ایک معنی یہ ہے کہ الله تعالیٰ کی قدرت اور ا س کی وحدانیّت کی نشانیوں  میں سے ایک یہ ہے کہ قیامت آنے تک آسمان و زمین کا اسی ہَیئت پر قائم رہنا الله تعالیٰ کے حکم
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ابن کثیر، الروم، تحت الآیۃ: ۲۴، ۶/۲۷۹، تفسیرکبیر، الروم، تحت الآیۃ: ۲۴، ۹/۹۳-۹۴، روح البیان، الروم، تحت الآیۃ: ۲۴، ۷/۲۴، ملتقطاً۔