لاپرواہی اور ضدسے کام نہ لو تو تمہیں یہی کہنا پڑے گا کہ ہزاروں برس سے انسانوں کا یہ معمول اوران کا یہ فطری نظام صرف اسی الله تعالیٰ کا پیدا کیا ہوا ہے جو یکتا معبود ہے اوراس کی قدرت کامل ہے ۔(1)
اس آیت میں مرنے کے بعد اٹھائے جانے پر بھی دلیل موجودہے اور وہ یہ کہ سونے والا مردہ کی مانند ہے تو جو ذات سونے والے کو بیدار کرنے پر قادر ہے تو وہ مرنے والے کو دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔
وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَیُحْیٖ بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَاؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ(۲۴)
ترجمۂکنزالایمان: اور اس کی نشانیوں سے ہے کہ تمہیں بجلی دکھاتا ہے ڈراتی اور امید دلاتی اور آسمان سے پانی اُتارتا ہے تو اُس سے زمین کو زندہ کرتا ہے اس کے مَرے پیچھے بے شک اس میں نشانیاں ہیں عقل والوں کے لئے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ تمہیں ڈرانے اور (بارش کی) امید دلانے کیلئے بجلی دکھاتا ہے اور آسمان سے پانی اتارتا ہے تو ا س کے ذریعے زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کرتا ہے۔بیشک اس میں عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں ۔
{وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ: اور اس کی نشانیوں میں سے ہے۔} اس آیت میں الله تعالیٰ نے خارجی کائنات کے عارضی اوصاف سے اپنی قدرت اور مرنے کے بعد اٹھائے جانے پر اِستدلال فرمایاہے ،چنانچہ آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ الله تعالیٰ کا تمہیں ڈرانے اور امید دلانے کے لئے بجلی دکھانا اور آسمان سے پانی اتار کر بنجر زمین کو سرسبزو شاداب کر دینا ا س کی قدرت کی نشانیوں میں سے ہے کہ جب بادلوں میں بجلی چمکتی ہے تو بسا اوقات تم خوفزدہ ہو جاتے ہو کہ کہیں یہ گر کر نقصان نہ پہنچا دے اور کبھی تمہیں اس سے یہ امید ہوتی ہے کہ اب بارش برسے گی نیزجب الله تعالیٰ بارش نازل فرماتا ہے تو اس کے پانی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تفسیرکبیر، الروم، تحت الآیۃ: ۲۳، ۹/۹۳، روح البیان، الروم، تحت الآیۃ: ۲۳، ۷/۲۱-۲۲، خازن، الروم، تحت الآیۃ: ۲۳، ۳/۴۶۲، ملتقطاً۔