کی رعایت دیکھ کر کوئی عقلمند ہرگز یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ کسی خالق اور انتظام فرمانے والے کے بغیر خود بخود عدم سے وجود میں آ گیا اور علم و حکمت کا یہ عجیب و غریب کارخانہ کسی چلانے والے کے بغیر چل رہاہے بلکہ اسے یہ اقرار کرنا پڑے گا کہ اس کائنات کا کوئی ایک خالق موجود ہے اور وہ کامل قدرت ،علم اور حکمت والا ہے اور اس عظمت و شان کا مالک الله تعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں ۔سرِ دست یہاں الله تعالیٰ کی قدرت اور اس کے موجود ہونے پر دلالت کرنے والی دو چیزیں ذکر کی ہیں ورنہ کائنات کے ذرے ذرے میں الله تعالیٰ کی ذات اور ا س کی صفات پر دلالت کرنے والی علامات اور نشانیاں موجود ہیں ۔
وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ مَنَامُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ ابْتِغَآؤُكُمْ مِّنْ فَضْلِهٖؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ(۲۳)
ترجمۂکنزالایمان: اور اس کی نشانیوں میں سے ہے رات اور دن میں تمہارا سونا اور اس کا فضل تلاش کرنا بے شک اس میں نشانیاں ہیں سننے والوں کے لئے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور رات اور دن میں تمہارا سونا اور اس کا فضل تلاش کرنا اس کی نشانیوں میں سے ہے ،بے شک اس میں سننے والوں کے لئے نشانیاں ہیں ۔
{وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ: اور اس کی نشانیوں میں سے ہے۔} اس آیت میں الله تعالیٰ نے اپنی وحدانیّت پر انسان کی ان صفات سے اِستدلال فرمایا ہے جو انسان سے جدا ہو جاتی ہیں ، چنانچہ آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے لوگو! رات اور دن میں تمہارا سونا اور الله تعالیٰ کا فضل تلاش کرنا الله تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ہے کہ تمہیں عادت کے مطابق رات میں نیند آتی ہے اور ضرورت کے وقت تم دن میں بھی سوجاتے ہوجس سے تھکن دور ہوتی اور تمہارے بدن کو راحت حاصل ہوتی ہے، یونہی دن میں تم سفر کرتے اور اپنی معیشت کے اسباب کو تلاش کر تے ہو،تو غور کرو کہ تم پر نیند کون طاری کرتا ہے اور نیند کا یہ معمول کس نے بنایا ہے اور تمہیں معیشت کے اسباب تلاش کرنے کی ہمت اور صلاحیت کس نے دی ہے؟اگرتم