Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
434 - 608
سے دیکھو گے تو جان لوگے کہ یہ سب صرف الله تعالیٰ کی قدرت کا شاہکار ہیں ۔(1)
 اس کائنات کا کامل قدرت رکھنے والا ایک ہی خالق موجود ہے:
	یاد رہے کہ یہ کائنات نہ تو کسی سبب اور علت کے بغیر اپنے طبعی تقاضوں  سے وجود میں  آئی ہے اور نہ ہی اس کا انتہائی مَربوط اور مُتناسِب نظام کسی چلانے والے کے بغیر چل رہا ہے بلکہ ایک ایسی ذات ضرور موجود ہے جس نے اپنی کامل قدرت سے ا س کائنات اور اس میں  موجود طرح طرح کے عجائبات کو پیدا فرمایا اور وہی ذات انتہائی عالیشان طریقے سے اس کے نظام کو چلارہی ہے ، جیسے ہم ایک دانے یا گٹھلی کو تر زمین میں  دباتے ہیں  تو ایک مخصوص مدت کے بعد اس سے کچھ شاخیں  نکلتی ہیں  ،اوپر والی شاخ زمین سے باہر نکل کر ایک تَناوَر درخت بن جاتی ہے اور نیچے والی شاخ اس درخت کی جڑیں  بن جاتی ہیں ، اس درخت کی طرف دیکھیں  تو اس کا تنا بھی لکڑی کا ہے اور جڑیں  بھی لکڑی کی ہیں ، تنا اوپر کی طرف جاتا ہے اور جڑیں  نیچے کی طرف جارہی ہیں  ،اب اگر لکڑی کا طبعی تقاضا اوپر کی طرف جانا ہے تو جڑیں  نیچے کیوں  جاتی ہیں  اور اگر اس کا تقاضا نیچے جانا ہے تو تنا اوپر کیوں  جاتاہے ؟ ایک ہی لکڑی ہونے کے باوجود تنے کے اوپر جانے اور جڑوں  کے نیچے جانے سے معلوم ہوا کہ لکڑی کا اپنا طبعی تقاضا کچھ نہیں  ہے بلکہ درخت کی لکڑی پر کسی اور ذات کا تَصَرُّف ہے جس کی قدرت کامل ہے، اسی نے لکڑی کے جس حصے کو چاہا اوپر اٹھا دیا اور جس حصے کو چاہا نیچے جھکا دیا۔(2)
	 یونہی اس کائنات کے نظام کو دیکھیں  تو نظر آئے گا کہ روزانہ سورج ایک مقررہ جِہَت سے طلوع ہوتا ہے اور ایک مقررہ جِہَت میں  غروب ہو جاتا ہے، دن کے بعد رات آتی اور رات کے بعد دن نکل آتا ہے،ہر سال اپنے اپنے موسموں  میں  کھیتیاں  پروان چڑھتی ہیں  ،پھول اپنے وقت پر کِھلتے ہیں  ،پھل اپنی مدت پر نکلتے ہیں  ،پوری دنیا میں  ایک خاص طریقے سے ہی انسان پیدا ہو رہے اور مخصوص مدت کے بعد مر رہے ہیں  ،حشراتُ الارض سے لے کر درندوں  تک،چرندوں  سے لے کر پرندوں  تک ہر ایک کی ساخت اور تخلیق اس کے حال کے مطابق ہے اور ان کی ضرورت کے تمام اَعضاء ان میں  موجود ہیں ،ہر ایک کی غذا اوراسے حاصل کرنے کا طریقہ مختلف ہے اورہر علاقے میں  رہنے والے کا مزاج اسی علاقے کے ماحول کے مطابق ہے، تو کائنات کایہ مَربوط اور حسِین نظام،حکیمانہ تدبیر اور ہر مخلوق کے حال
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تفسیرکبیر، الروم، تحت الآیۃ: ۲۲، ۹/۹۲، ابن کثیر، الروم، تحت الآیۃ: ۲۲، ۶/۲۷۹، خازن، الروم، تحت الآیۃ: ۲۲، ۳/۴۶۱ -۴۶۲، مدارک، الروم، تحت الآیۃ: ۲۲، ص۹۰۵، ملتقطاً۔
2…تفسیرکبیر، الانعام، تحت الآیۃ: ۹۵، ۵/۷۱-۷۲، ملخصاً۔