بے شک اس میں نشانیاں ہیں جاننے والوں کے لئے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور رنگوں کا اختلاف اس کی نشانیوں میں سے ہے، بے شک اس میں علم والوں کے لئے نشانیاں ہیں ۔
{وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ: اور اس کی نشانیوں سے ہے۔} اس سے پہلی دو آیات میں الله تعالیٰ نے اپنی قدرت کی وہ نشانیاں بیان فرمائیں جو انسان کی اپنی ذات میں ہیں جبکہ ا س آیت میں خارجی کائنات کی تخلیق اور انسان کی لازمی صفات سے اپنی وحدانیّت پر اِستدلال فرمایا ہے۔آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے لوگو! آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور رنگوں کا اختلاف الله تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ہے کہ تم آسمان کی طرف دیکھو کہ وہ انتہائی وسیع اور بلند ہے، اس میں رات کے وقت ستارے روشن ہوتے اور یہ آسمان کی زینت ہیں ،اسی طرح زمین کی طرف دیکھو کہ کتنی طویل و عریض ہے ، پانی کی طرح نرم نہیں بلکہ سخت ہے،اس پر پُر ہَیبت پہاڑ نَصب ہیں ،اس میں وسیع و عریض میدان ،گھنے جنگلات اور ریت کے ٹیلے ہیں ،دریا اور سمندر جاری ہیں ،نباتات کا ایک سلسلہ قائم ہے ،لہلہاتے ہوئے زرخیز کھیت، پھلوں سے لدے اور پھولوں کے مہکتے ہوئے باغات ہیں ۔یونہی تم اپنی زبانوں کے اختلاف پر غور کرو کہ کوئی عربی بولتا ہے ،کوئی فارسی اورکوئی ان کے علاوہ دوسری زبان بولتا ہے۔ایسے ہی تم اپنے رنگوں پر غور کرو کہ کوئی گورا ہے، کوئی کالا ، کوئی گندمی حالانکہ تم سب کی اصل ایک ہے اور تم سب حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد ہو۔ اسی طرح تم اپنی جسمانی ساخت پر غور کرو کہ ہر انسان کی دو آنکھیں ،دو اَبرو،ایک ناک ، ایک پیشانی،ایک منہ اور دو گالیں ہیں اور انسانوں کی تعداد اربوں میں ہونے کے باوجود کسی کا رنگ ، چہرہ اور نقش دوسرے سے پورا پورا نہیں ملتا بلکہ ہر ایک دوسرے سے جدا ہی نظر آتا ہے اور اگر ہر ایک کی شکل اور آواز ایک جیسی ہوتی تو ایک دوسرے کی پہچان مشکل ہو جاتی اور بے شمار مَصلحتیں ختم ہو کر رہ جاتیں ، اچھے اَخلاق والے اور برے اخلاق والے میں ،دوست اور دشمن میں ، قریبی اور دور والے میں اِمتیاز نہ ہو پاتا۔اب تم یہ بتاؤ کہ کیا یہ سب چیزیں خود ہی وجود میں آ گئیں ہیں یا یہ محض اتفاق ہے ، یا یہ چند خداؤں نے مل کر یہ کارنامہ سر انجام دیاہے ،اگر ایسا ہے تو پھر آسمان و زمین میں ہزاروں سال سے اس قدر نظم اور تسلسل کیوں قائم ہے اور اس میں کبھی اختلاف کیوں نہیں ہوا،ان زبانوں ،رنگوں اور شکلوں کا خالق کون ہے؟اگر تم علم اور انصاف کی نظر