Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
43 - 608
وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًا(۵۶)قُلْ مَاۤ اَسْــٴَـلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ اِلَّا مَنْ شَآءَ اَنْ یَّتَّخِذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا(۵۷)
ترجمۂکنزالایمان: اور ہم نے تمہیں  نہ بھیجا مگر خوشی اور ڈر سناتا۔ تم فرماؤ میں  اس پر تم سے کچھ اجرت نہیں  مانگتا مگر جو چاہے کہ اپنے رب کی طرف راہ لے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ہم نے تمہیں  نہ بھیجا مگر خوشخبری دینے والا اور ڈر سنانے والا۔تم فرماؤ: میں  اس پر تم سے کچھ اجرت نہیں  مانگتا لیکن جو چاہے کہ اپنے رب کی طرف راستہ اختیار کرے۔
{وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا: اور ہم نے تمہیں  نہ بھیجا مگر۔} یعنی اے حبیب ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، ہم نے آپ کو ایمان و طاعت پر جنت کی خوشخبری دینے والا او رکفرو مَعصِیَت پر جہنم کے عذاب کا ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا ہے۔(1)
{قُلْ: تم فرماؤ۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ ان مشرکوں  سے فرما دیں  کہ میں وحی کی تبلیغ پر تم سے کچھ اجرت نہیں  مانگتا لیکن جو چاہے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف راستہ اختیار کرے اور اس کا قرب اور اس کی رضا حاصل کرے۔ مراد یہ ہے کہ ایمانداروں  کا ایمان لانا اور ان کاطاعت ِالٰہی میں  مشغول ہونا ہی میرا اجر ہے کیونکہ اللہ تبارک و تعالٰی مجھے اس پر جزا عطا فرمائے گا اس لئے کہ اُمت کے نیک لوگوں  کے ایمان اور اُن کی نیکیوں  کے ثواب اُنہیں  بھی ملتے ہیں  اور اُن کے انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جن کی ہدایت سے وہ اس رتبہ پر پہنچے۔(2)
وَ تَوَكَّلْ عَلَى الْحَیِّ الَّذِیْ لَا یَمُوْتُ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِهٖؕ-وَ كَفٰى بِهٖ بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِیْرَاﰳ (۵۸)ﮊ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، الفرقان، تحت الآیۃ: ۵۶، ۳/۳۷۷۔
2…روح البیان، الفرقان، تحت الآیۃ: ۵۷، ۶/۲۳۳۔