ترجمۂکنزالایمان: اور بھروسہ کرو اس زندہ پر جو کبھی نہ مرے گا اور اسے سراہتے ہوئے اس کی پاکی بولو اور وہی کافی ہے اپنے بندوں کے گناہوں پر خبردار۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اوراس زندہ پر بھروسہ کرو جو کبھی نہ مرے گا اور اس کی حمد کرتے ہوئے اس کی پاکی بیان کرو اور اپنے بندوں کے گناہوں کی خبررکھنے کے لئے وہی کافی ہے۔
{وَ تَوَكَّلْ: اور بھروسہ کرو۔} اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالٰی نے اپنے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو حکم دیا کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ان مشرکوں سے فرما دیں : ’’میں وحی کی تبلیغ پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا، اور ا س آیت میں حکم فرمایا ہے کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تمام اُمور میں صرف اللہ تعالٰی پر بھروسہ فرمائیں ۔چنانچہ ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ اس زندہ پر بھروسہ کریں جو کبھی نہ مرے گا اوراسی پر بھروسہ کرنا چاہئے، کیونکہ مرنے والے پر بھروسہ کرنا عقلمند کی شان نہیں اورآپ اس کی حمد کرتے ہوئے پاکی بیان کریں اور اس کی طاعت اور شکر بجالائیں ۔ اور اپنے بندوں کے گناہوں کی خبررکھنے کے لئے وہی کافی ہے، اس سے کسی کا گناہ چھپ سکتا ہے اور نہ کوئی اُس کی گرفت سے اپنے آپ کو بچاسکتا ہے۔(1)
الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِۚۛ-اَلرَّحْمٰنُ فَسْــٴَـلْ بِهٖ خَبِیْرًا(۵۹)
ترجمۂکنزالایمان: جس نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دن میں بنائے پھر عرش پر استواء فرمایا جیسا اس کی شان کے لائق ہے وہ بڑی مِہر والا تو کسی جاننے والے سے اس کی تعریف پوچھ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: جس نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دن میں بنائے پھر اس نے عرش پر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، الفرقان، تحت الآیۃ: ۵۸، ۳/۳۷۷، مدارک، الفرقان، تحت الآیۃ: ۵۸، ص۸۰۸، ملتقطاً۔