{وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ: اور جس دن قیامت قائم ہو گی۔} ارشاد فرمایا کہ جس دن قیامت قائم ہو گی اس دن مسلمان اور کافر ایک دوسرے سے ایسے الگ الگ ہو جائیں گے کہ آئندہ پھر کبھی جمع نہ ہوں گے اور یہ اس طرح ہو گا کہ حساب کے بعد اہل ِجنت کوجنت میں داخل کر دیا جائے گا اور کفار کو جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔(1) اس کی مزیدتفصیل اگلی آیات میں ہے۔
فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَهُمْ فِیْ رَوْضَةٍ یُّحْبَرُوْنَ(۱۵)وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآئِ الْاٰخِرَةِ فَاُولٰٓىٕكَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ(۱۶)
ترجمۂکنزالایمان: تو و ہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے باغ کی کیاری میں اُن کی خاطر داری ہو گی۔اوروہ جو کافر ہوئے اور ہماری آیتیں اور آخرت کا ملنا جھٹلایا وہ عذاب میں لا دھرے جائیں گے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو و ہ جو ایمان لائے اورانہوں نے اچھے کام کئے تو وہ (جنت کے) باغ میں خوش رکھے جائیں گے۔ اور جو کافر ہوئے اور انہوں نے ہماری آیتوں اور آخرت کے ملنے کو جھٹلایا تووہ عذاب میں حاضر کئے جائیں گے۔
{فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا: تو و ہ جو ایمان لائے۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت میں مومن اور کافر کے الگ الگ ہونے کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔اس آیت میں فرمایا گیا کہ جو لوگ ایمان لائے اورانہوں نے اچھے کام کئے توجنت کے باغات میں ان کا اِکرام کیا جائے گا جس سے وہ خوش ہوں گے ۔ایک قول یہ ہے کہ یہ خاطر داری جنتی نعمتوں کے ساتھ ہوگی اور ایک قول یہ بھی ہے کہ خاطر داری سے مراد سَماع ہے کہ انہیں طَرب اَنگیز یعنی شادمانی کے نغمات سنائے جائیں گے جواللہ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی کی تسبیح پر مشتمل ہوں گے۔(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…جلالین، الروم، تحت الآیۃ: ۱۴، ص۳۴۲، خازن، الروم، تحت الآیۃ: ۱۴، ۳/۴۶۰، ملتقطاً۔
2…مدارک، الروم، تحت الآیۃ: ۱۵، ص۹۰۴، خازن، الروم، تحت الآیۃ: ۱۵، ۳/۴۶۰، روح البیان، الروم، تحت الآیۃ: ۱۵، ۷/۱۳، ملتقطاً۔