Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
422 - 608
وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یُبْلِسُ الْمُجْرِمُوْنَ(۱۲)وَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ مِّنْ شُرَكَآىٕهِمْ شُفَعٰٓؤُا وَ كَانُوْا بِشُرَكَآىٕهِمْ كٰفِرِیْنَ(۱۳)وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَىٕذٍ یَّتَفَرَّقُوْنَ(۱۴)
ترجمۂکنزالایمان: اور جس دن قیامت قائم ہو گی مجرموں  کی آس ٹوٹ جائے گی۔ اور اُن کے شریک اُن کے سفارشی نہ ہوں  گے اور وہ اپنے شریکوں  سے منکر ہو جائیں  گے۔ اور جس دن قیامت قائم ہو گی اس دن الگ ہو جائیں  گے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جس دن قیامت قائم ہو گی مجرم مایوس ہوجائیں  گے۔ اور ان کے شریک ان کے سفارشی نہ ہوں  گے اور وہ اپنے شریکوں  سے منکر ہو جائیں  گے۔ اور جس دن قیامت قائم ہو گی اس دن لوگ الگ ہو جائیں  گے۔
{وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ: اور جس دن قیامت قائم ہوگی۔} یہاں  سے قیامت کے دن مجرموں  کی کیفیت بیان کی جا رہی ہے ۔اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ جس دن قیامت قائم ہو گی تو مجرموں  کو کسی نفع اور بھلائی کی امید باقی نہ رہے گی۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ جس دن قیامت قائم ہو گی تو مجرموں  کا کلام مُنقَطع ہوجائے گا اور وہ خاموش رہ جائیں  گے، کیونکہ اُن کے پاس پیش کرنے کے قابل کوئی حجت نہ ہوگی۔تیسری تفسیر یہ ہے کہ جس دن قیامت قائم ہو گی تو ا س دن مجرم رُسوا ہوں  گے۔یاد رہے کہ یہاں  آیت میں  مجرموں  سے مراد مشرکین ہیں ۔(1)
{وَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ مِّنْ شُرَكَآىٕهِمْ شُفَعٰٓؤُا: اور ان کے شریک ان کے سفارشی نہ ہوں  گے۔} یعنی سفارش کی امید پر مشرکین جن بتوں  کو پوجتے تھے وہ قیامت کے دن ان کی سفارش کر کے انہیں  الله تعالیٰ کے عذاب سے نہ بچائیں  گے اور مشرکین اپنے معبودوں سے مایوس ہو کر ان کا انکار کر دیں  گے اور ان سے براء ت کا اظہار کریں  گے۔(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، الروم، تحت الآیۃ: ۱۲، ۳/۴۶۰،  روح البیان، الروم، تحت الآیۃ: ۱۲، ۷/۱۲، جلالین، الروم، تحت الآیۃ: ۱۲، ص۳۴۱، مدارک، الروم، تحت الآیۃ: ۱۲، ص۹۰۳، ملتقطاً۔
2…روح البیان، الروم، تحت الآیۃ: ۱۳، ۷/۱۲، جلالین، الروم، تحت الآیۃ: ۱۳، ص۳۴۲، ملتقطاً۔