Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
421 - 608
 لہٰذا ہر ایک کو برے اعمال سے بچنے کی شدید حاجت ہے تاکہ وہ بد عقیدگی سے محفوظ رہے ۔کفر سے بچنے کیلئے گناہوں  سے بچنا چاہیے اور گناہوں  سے بچنے کیلئے مُشتَبَہ چیزوں  سے بچنا چاہیے۔ اس سلسلے میں  یہ حدیثِ پاک ملاحظہ کریں ۔ چنانچہ حضرت نعمان بن بشیر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، رسولُ الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’حلال بھی ظاہر ہے اور حرام بھی ظاہر ہے اور ان کے درمیان کچھ مُشتَبَہ چیزیں  ہیں  جنہیں  بہت سے لوگ نہیں  جانتے، تو جو شُبہات سے بچے گا وہ اپنا دین اور اپنی عزت بچالے گا اورجوشبہات میں  پڑے گا وہ حرام میں  مبتلا ہو جائے گا ، جس طرح کوئی شخص کسی چراگاہ کی حدود کے گرد چَرائے توقریب ہے کہ وہ جانور ا س چراگاہ میں  بھی چر لیں ۔ سنو ہر بادشاہ کی چراگاہ کی ایک حد ہوتی ہے اور الله تعالیٰ کی مقرر کردہ چراگاہ اس کی حرام کردہ چیزیں  ہیں  ۔(1)
	 الله تعالیٰ ہر مسلمان کو برے اعمال کرنے اور بد عقیدگی اختیار کرنے سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے،آمین۔
اَللّٰهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ(۱۱)
ترجمۂکنزالایمان: الله پہلے بناتا ہے پھر دوبارہ بنائے گا پھر ا س کی طرف پھرو گے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: الله پہلے بناتا ہے پھر وہ دوبارہ بنائے گا پھر ا س کی طرف تم پھیرے جاؤ گے۔
{اَللّٰهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ: الله پہلے بناتا ہے۔} یعنی الله تعالیٰ تمام مخلوق کو پہلی بار پیدا فرماتا ہے اور اس میں  الله تعالیٰ کا کوئی شریک اور مدد گار نہیں ، بلکہ اس نے اکیلے ہی اپنی قدرت ِکاملہ سے مخلوق کو پیدا فرمایا ہے ، پھر وہ اسے فنا اور معدوم کرنے کے بعد (قیامت کے دن) دوبارہ نئے سرے سے اسی طرح درست بنائے گا جیسے پہلی بار بنایا تھا،پھر دوبارہ بننے کے بعدتمام مخلوق اسی کی طرف لوٹائی جائے گی اور سب کو جمع کیا جائے گا تاکہ ان کے درمیان فیصلہ کیا جائے اور الله تعالیٰ برائی کرنے والوں  کو ان کے اعمال کا بدلہ دے گا اور نیکی کرنے والوں  کو نہایت اچھا صلہ عطا فرمائے گا۔(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مسلم، کتاب المساقاۃ، باب اخذ الحلال وترک الشبہات، ص۸۶۲، الحدیث: ۱۰۷(۱۵۹۹)۔
2…تفسیر طبری، الروم، تحت الآیۃ: ۱۱، ۱۰/۱۷۱۔