Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
420 - 608
اور الله تعالیٰ کی یہ شان نہ تھی کہ وہ ان کے حقوق کم کرکے اور انہیں  جرم کے بغیر ہلاک کرکے ان پر ظلم کرتا، ہاں  رسولوں  کی تکذیب کرنے کی وجہ سے اپنے آپ کو عذاب کا مستحق بنا کروہ خود ہی اپنی جانوں  پر ظلم کرتے تھے۔(1)
ثُمَّ كَانَ عَاقِبَةَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوا السُّوْٓ اٰۤى اَنْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ كَانُوْا بِهَا یَسْتَهْزِءُوْنَ۠(۱۰)
 ترجمۂکنزالایمان: پھر جنہوں  نے حد بھر کی برائی کی ان کا انجام یہ ہوا کہ الله کی آیتیں  جھٹلانے لگے اور ان کے ساتھ تمسخر کرتے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: پھربرائی کرنے والوں  کا انجام سب سے برا ہوا کیونکہ انہوں  نے الله کی آیتوں  کو جھٹلایا اور وہ ان آیتوں  کا مذاق اڑاتے تھے۔
{ثُمَّ كَانَ عَاقِبَةَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوا السُّوْٓ اٰۤى: پھربرائی کرنے والوں  کا انجام سب سے برا ہوا۔} اس آیت کا ایک معنی یہ ہے کہ گناہوں  کااِرتکاب کرتے رہنے والوں  کا انجام یہ ہو اکہ الله تعالیٰ نے ان کے دلوں  پر مہر لگا دی،حتّٰی کہ برے اعمال کی وجہ سے وہ لوگ الله تعالیٰ کی آیتوں  کو جھٹلانے لگے اور ان آیتوں  کا مذاق اڑانے لگ گئے ۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ وہ لوگ جنہوں  نے برے اعمال کئے (یعنی کفر کیا تو) ان کا انجام سب سے برا ہوا کہ دنیا میں  انہیں  (عذاب نازل کر کے) ہلاک کر دیا گیا اور آخرت میں  ان کے لئے جہنم ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں  نے الله تعالیٰ کے رسولوں  پر نازل ہونے والی آیتوں  کو جھٹلایا اور وہ ان آیتوں  کا مذاق اڑاتے تھے۔(2)
بد عقیدگی اور گناہوں  کا بنیادی سبب:
	اس آیت کی پہلی تفسیر سے معلوم ہو اکہ برے اعمال پر اِصرار کی وجہ سے انسان برے عقیدے اختیار کر جاتا ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تفسیر طبری، الروم، تحت الآیۃ: ۹، ۱۰/۱۷۰، جلالین، الروم، تحت الآیۃ: ۹، ص۳۴۱، خازن، الروم، تحت الآیۃ: ۹، ۳/۴۵۹، ملتقطاً۔
2…بیضاوی، الروم، تحت الآیۃ: ۱۰، ۴/۳۲۹، خازن، الروم، تحت الآیۃ: ۱۰، ۳/۴۵۹-۴۶۰،  ابوسعود، الروم، تحت الآیۃ: ۱۰، ۴/۲۷۱، روح البیان، الروم، تحت الآیۃ: ۱۰، ۷/۱۱، ملتقطاً۔