اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْؕ-كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّ اَثَارُوا الْاَرْضَ وَ عَمَرُوْهَاۤ اَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوْهَا وَ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِؕ-فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَؕ(۹)
ترجمۂکنزالایمان: اور کیا اُنہوں نے زمین میں سفر نہ کیا کہ دیکھتے کہ اُن سے اگلوں کا انجام کیسا ہوا وہ ان سے زیادہ زور آور تھے اور زمین جوتی اور آباد کی ان کی آبادی سے زیادہ اور ان کے رسول ان کے پاس روشن نشانیاں لائے تو الله کی شان نہ تھی کہ اُن پر ظلم کرتا ہاں وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور کیا انہوں نے زمین میں سفر نہ کیا کہ دیکھتے کہ ان سے پہلے لوگوں کا انجام کیسا ہوا؟وہ ان سے زیادہ طاقتور تھے اور انہوں نے زمین میں ہل چلائے اوراُنہوں نے زمین کواُس سے زیادہ آباد کیا جتنا اِنہوں نے آباد کیاہے اور اُن کے رسول اُن کے پاس روشن نشانیاں لائے تو الله کی یہ شان نہ تھی کہ ان پر ظلم کرتاہاں وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔
{اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ: اور کیا انہوں نے زمین میں سفر نہ کیا۔} یعنی کیا الله تعالیٰ کو جھٹلانے والے اور آخرت سے غافل کفار نے زمین میں سفر نہیں کیا تاکہ وہ دیکھ لیتے کہ ان سے پہلے رسولوں کو جھٹلانے والے لوگوں کا انجام کیا ہوا، رسولوں کو جھٹلانے کی وجہ سے انہیں ہلاک کر دیا گیا اور اب ان کے اجڑے ہوئے دیار اور ان کی ہلاکت وبر بادی کے آثار، عبرت کاسامان ہیں ۔ان قوموں کا حال یہ تھا کہ وہ لوگ اہل ِمکہ سے زیادہ طاقتور تھے اور انہوں نے زمین میں ہل چلائے اور زمین کواُس سے زیادہ آباد کیا جتنا اِن اہلِ مکہ نے آباد کیاہے، لیکن جب اُن کے رسول اُن کے پاس روشن نشانیاں لے کر آئے تو وہ اُن پر ایمان نہ لائے،اس کی وجہ سے ان کا انجام یہ ہو ا کہ الله تعالیٰ نے انہیں ہلاک کردیا