Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
418 - 608
اَوَ لَمْ یَتَفَكَّرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ- مَا خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّىؕ-وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ لَكٰفِرُوْنَ(۸)
ترجمۂکنزالایمان: کیا انہوں  نے اپنے جی میں  نہ سوچا کہ الله نے پیدا نہ کئے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے مگر حق اور ایک مقرر میعاد سے اور بیشک بہت سے لوگ اپنے رب سے ملنے کا انکار رکھتے ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: کیا انہوں  نے اپنے دلوں  میں  غوروفکر نہیں  کیا کہ الله نے آسمانوں  اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کو حق اور ایک مقررہ مدت کے ساتھ پیدا کیااور بیشک بہت سے لوگ اپنے رب سے ملنے کے منکر ہیں ۔
{اَوَ لَمْ یَتَفَكَّرُوْا: کیا انہوں  نے غورو فکر نہیں  کیا۔} اس سے پہلی آیات میں  کفار کے حوالے سے بیان ہوا کہ وہ الله تعالیٰ اور قیامت کے دن کے منکر ہیں  اور اب یہاں  سے وہ اسباب بیان کئے جا ر ہے ہیں  جن سے بندہ الله تعالیٰ پر ایمان لانے کی طرف راغب ہو سکتا ہے اور اسے آخرت کے بارے میں  علم بھی مل سکتا ہے ،چنانچہ ارشاد فرمایا کہ کفارِ مکہ کی نظر صرف دُنْیَوی زندگی کی زیب و زینت پر ہے اور وہ اپنے دلوں  میں  غور و فکر نہیں  کرتے،اگر وہ ایسا کرتے تو جان لیتے کہ الله تعالیٰ نے آسمان،زمین اور جو مخلوقات ان کے درمیان ہے،ان سب کو بیکار اور باطل نہیں  بنایا بلکہ ان میں  بے شمار حکمتیں  رکھی ہیں  تاکہ لوگ ان میں  غور و فکر کر کے انہیں  بنانے والے کے وجود اور ا س کی وحدانیَّت پر اِستدلال کریں  اور اس کی قدرت و صفات کو پہچانیں  اور الله تعالیٰ نے ان چیزوں  کو ہمیشہ کے لئے نہیں  بنایا بلکہ ان کے لئے ایک مدت مُعَیَّن کر دی ہے اور جب وہ مدت پوری ہوجائے گی تو یہ چیزیں  فنا ہو جائیں  گی اور وہ مدت قیامت قائم ہونے کا وقت ہے۔بیشک بہت سے لوگ آخرت سے غافل ہونے اور آخرت کی معرفت دلانے والی چیزوں  میں  غور وفکر نہ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے اعمال کے حساب،ان کی جزا اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کے منکر ہیں ۔(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…روح البیان، الروم، تحت الآیۃ: ۸، ۷/۹-۱۰، مدارک، الروم، تحت الآیۃ: ۸، ص۹۰۲-۹۰۳، ملتقطاً۔