Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
415 - 608
ترجمۂکنزُالعِرفان: قریب کی زمین میں  اور وہ اپنی شکست کے بعد عنقریب غالب آجائیں  گے۔ چند سالوں  میں ۔ پہلے اور بعدحکم الله ہی کا ہے اور اس دن ایمان والے خوش ہوں  گے۔ الله کی مدد سے۔وہ جس کی چاہے مدد کرتا ہے اور وہی غالب، مہربان ہے۔
{فِیْۤ اَدْنَى الْاَرْضِ: قریب کی زمین میں ۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کے ابتدائی حصے کا خلاصہ یہ ہے کہ شام کی اس سرزمین میں  رومی مغلوب ہوگئے جو فارس سے قریب تر ہے اور رومی اپنی شکست کے بعد عنقریب چند سالوں  میں  ایرانیوں  پرغالب آجائیں  گے جن کی حد 9 سال ہے۔مشہور روایت کے مطابق رومیوں  کے مغلوب ہونے کے سات سال بعد ہی رومی ایرانیوں  پر غالب آ گئے تھے ۔(1)
رومیوں  کے غالب آنے کی مدت مُبْہَم رکھنے کی حکمت:
	یہاں  آیت میں  رومیوں  کے غالب آنے کی مُعَیَّن مدت ذکرنہیں  کی گئی،اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُ الله تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’آیت میں  رومیوں  کے غالب آنے کی مدت کو ا س لئے مُبْہَم رکھا گیا تاکہ کفار ہر وقت رعب میں  رہیں  اور ان کے دلوں  میں  خوف بیٹھا رہے۔(2)
حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو رومیوں  کے غالب آنے کی مدت معلوم تھی:
	یاد رہے کہ آیت میں  رومیوں  کے غالب آنے کی مُعَیَّن مدت ذکر نہ کرنے کا یہ مطلب ہر گز نہیں  کہ رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بھی اس مدت کا علم نہیں  دیاگیا تھا ، آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو وہ مدت بتا دی گئی تھی البتہ اسے ظاہر کرنے کی اجازت نہ ہونے کی وجہ سے آپ نے اسے ظاہر نہیں  فرمایا تھا، جیسا کہ امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُ الله تَعَالٰیعَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’ الله تعالیٰ نے رومیوں  کے غالب آنے کا سال، مہینہ، دن اور وقت بھی اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِوَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بتا دیا تھا البتہ تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اس کے اظہار کی اجازت نہ تھی۔(3)
{لِلّٰهِ الْاَمْرُ: الله ہی کا حکم ہے۔} یعنی رومیوں  کے غلبہ سے پہلے بھی اور اس کے بعد بھی الله تعالیٰ ہی کا حکم چل رہا ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، الروم، تحت الآیۃ: ۳-۴، ۳/۴۵۸، تفسیر قرطبی، الروم، تحت الآیۃ: ۴، ۷/۴، الجزء الرابع عشر، ملتقطاً۔
2…صاوی، الروم، تحت الآیۃ: ۴، ۴/۱۵۷۵۔
3…تفسیرکبیر، الروم، تحت الآیۃ: ۴، ۹/۸۰۔