مراد یہ ہے کہ پہلے فارس والوں کا غلبہ ہونا اور دوبارہ رومیوں کا غالب ہوجانا یہ سب الله تعالیٰ کے حکم ،ارادے اوراس کی قضا و قدر سے ہے کیونکہ جنگ میں جو مغلوب ہو جائے تو وہ کمزور ہو جاتا ہے اور کمزوری کے بعد دوبارہ غالب آجانا اس بات کی دلیل ہے کہ اس کا غلبہ اس کی اپنی طاقت و قوت کے بل بوتے پر نہیں کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو وہ پہلی بار ہی مغلوب نہ ہوتا ۔(1)
{وَ یَوْمَىٕذٍ یَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ: اور اس دن ایمان والے خوش ہوں گے۔} آیت کے اس حصے اور اس کے بعد والی آیت کے ابتدائی حصے کا خلاصہ یہ ہے کہ جب رومی ایرانیوں پر غالب آئیں گے اور الله تعالیٰ نے ان کے غلبے کا جو وعدہ فرمایا ہے وہ پورا ہو گا تو اس دن ایمان والے الله تعالیٰ کی مدد سے خوش ہوں گے کہ اُس نے کتابیوں کو غیر کتابیوں پر غلبہ دیا۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ الله تعالیٰ کی مدد سے مراد یہ ہے کہ مسلمانوں نے کفار کو رومیوں کے غالب آنے کی جو خبر دی تھی وہ سچی ثابت ہوئی ۔ چنانچہ ایک روایت کے مطابق جب بدر کے دن مسلمان مشرکوں پر غالب ہوئے تو انہیں خوشی ہوئی اور اسی دن رومیوں کے غالب آنے کی خبر ملنے پر بھی مسلمان خوش ہوئے،اور ایک روایت کے مطابق صلحِ حُدَیْبِیَہ کے موقع پر رومی ایرانیوں پر غالب آئے اور بیعت ِرضوان کے دن جب مسلمانوں کو اس کی خبر ملی تو وہ خوش ہوئے۔(2)
وَعْدَ اللّٰهِؕ-لَا یُخْلِفُ اللّٰهُ وَعْدَهٗ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ(۶)یَعْلَمُوْنَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ۚۖ-وَ هُمْ عَنِ الْاٰخِرَةِ هُمْ غٰفِلُوْنَ(۷)
ترجمۂکنزالایمان: الله کا وعدہ الله اپنا وعدہ خلاف نہیں کرتا لیکن بہت لوگ نہیں جانتے۔ جانتے ہیں آنکھوں کے سامنے کی دنیوی زندگی اور وہ آخرت سے پورے بے خبر ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: الله کا وعدہ ہے۔ الله اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ۔ آنکھوں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، الروم، تحت الآیۃ: ۴، ۳/۴۵۸، صاوی، الروم، تحت الآیۃ: ۴، ۴/۱۵۷۵، ملتقطاً۔
2…مدارک، الروم، تحت الآیۃ: ۴-۵، ص۹۰۲، خازن، الروم، تحت الآیۃ: ۴-۵، ۳/۴۵۸-۴۵۹، تفسیر قرطبی، الروم، تحت الآیۃ: ۳، ۷/۶، الجزء الرابع عشر، ملتقطاً۔