Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
414 - 608
کہ اگر نو سال میں  رومی فارس والوں  پر غالب نہ آئے تو حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ اُبی بن خلف کو سو اونٹ دیں  گے اور اگر رومی غالب آجائیں  تو اُبی بن خلف حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کو سو اونٹ دے گا۔ جب یہ شرط لگی اس وقت تک جوئے کی حرمت نازل نہ ہوئی تھی۔سات سال کے بعد اس خبر کی سچائی ظاہر ہوئی اور صلحِ حُدَیْبِیَہ یا جنگ ِ بدر کے دن رومی فارس والوں  پر غالب آگئے ، رومیوں  نے مدائن میں  اپنے گھوڑے باندھے اور عراق میں  رومیہ نامی ایک شہر کی بنیاد رکھی ۔ حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے شرط کے اُونٹ اُبی بن خلف کی اولاد سے وصول کرلئے کیونکہ وہ اس عرصے میں  مرچکا تھا اورسرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کو حکم دیا کہ شرط کے مال کو صدقہ کردیں ۔(1)
حَربی کفار کے ساتھ خرید و فروخت سے متعلق ایک مسئلہ:
	 اما م اعظم ابوحنیفہ اورامام محمدرَحْمَۃُ الله تَعَالٰی عَلَیْہِمَاکے نزدیک حَربی کفار کے ساتھ عقودِ فاسدہ و غیرہ جائز ہیں  اور حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کا شرط لگانے والا واقعہ ان کی دلیل ہے ۔یاد رہے کہ اس مسئلے کی کچھ تفصیلات ہیں  اس لئے عوامُ النّاس کو چاہئے کہ علمائے کرام سے اس مسئلے کی تفصیل معلوم کئے بغیر از خود اس پر عمل نہ کریں ۔
فِیْۤ اَدْنَى الْاَرْضِ وَ هُمْ مِّنْۢ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَیَغْلِبُوْنَۙ(۳) فِیْ بِضْعِ سِنِیْنَ۬ؕ-لِلّٰهِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَ مِنْۢ بَعْدُؕ-وَ یَوْمَىٕذٍ یَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَۙ(۴) بِنَصْرِ اللّٰهِؕ-یَنْصُرُ مَنْ یَّشَآءُؕ-وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُۙ(۵)
ترجمۂکنزالایمان: پاس کی زمین میں  اور اپنی مغلوبی کے بعد عنقریب غالب ہوں  گے۔ چند برس میں  حکم الله ہی کا ہے آگے اور پیچھے اور اس دن ایمان والے خوش ہوں  گے۔ الله کی مدد سے وہ مدد کرتا ہے جس کی چاہے اور وہی ہے عزت والا مہربان۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، الروم، تحت الآیۃ: ۳، ۳/۴۵۷-۴۵۸، مدارک، الروم، تحت الآیۃ: ۴، ص۹۰۱، ملتقطاً۔