Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
413 - 608
الٓمّٓۚ(۱) غُلِبَتِ الرُّوْمُۙ(۲)
ترجمۂکنزالایمان: رومی مغلوب ہوئے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:  الم۔ رومی مغلوب ہوگئے۔
{الٓمّٓ} یہ حروفِ مُقَطَّعات میں  سے ایک حرف ہے ،اس کی مراد الله تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔
{غُلِبَتِ: مغلوب ہوگئے۔} شانِ نزول :ایران اور روم کے درمیان جنگ جاری تھی اورچونکہ ایران کے رہنے والے مجوسی تھے، اس لئے عرب کے مشرکین اُن کا غلبہ پسند کرتے تھے جبکہ رومی اہلِ کتاب تھے، اس لئے مسلمانوں  کو اُن کا غلبہ اچھا معلوم ہوتا تھا۔ایک مرتبہ ایران کے بادشاہ خسرو پرویز نے رومیوں  سے جنگ کرنے کے لئے اپنا لشکر بھیجا تو رو م کے بادشاہ قیصر نے بھی ا س کے مقابلے کے لئے اپنا لشکر بھیج دیا۔شام کی سرزمین کے قریب جب ان لشکروں  کا آپس میں  مقابلہ ہواتو ایرانی لشکر رومی فوجیوں  پر غالب آ گیا اور انہیں  شکست دے دی۔ مسلمانوں  نے جب یہ خبر سنی تو انہیں  بہت گراں  گزری جبکہ کفار ِمکہ اس سے خوش ہو کر مسلمانوں  سے کہنے لگے کہ تم بھی اہلِ کتاب ہو اور عیسائی بھی اہلِ کتاب ہیں اور ہم بھی اُمّی ہیں  اور فارس والے بھی اُمّی ، ہمارے بھائی یعنی فارس والے تمہارے بھائیوں  یعنی رومیوں  پر غالب آگئے ہیں  اورجب ہماری تمہاری جنگ ہوگی تو ہم بھی تم پر غالب آ جائیں  گے۔ اس پر یہ آیتیں  نازل ہوئیں  اور اِن میں  خبر دی گئی کہ چند سال میں  پھر رومی فارس والوں  پر غالب آجائیں  گے اور یہ غیبی خبرسیّد المرسَلین صَلَّی الله تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نبوت صحیح ہونے اور قرآنِ کریم کے الله تعالیٰ کا کلام ہونے کی روشن دلیل ہے۔
حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کا یقین:
	جب یہ آیتیں  نازل ہوئیں  تو انہیں  سن کر حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے کفارِ مکہ میں  جا کر اعلان کر دیا کہ اے مکہ والو! تم اس وقت کی جنگ کے نتیجے سے خوش مت ہو ،ہمیں  ہمارے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے رومیوں  کے غلبے کی خبر دے دی ہے، خدا کی قسم! رومی ضرور فارس والوں  پر غلبہ پائیں  گے۔ اُبی بن خلف کافر یہ سن کر آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے سامنے کھڑا ہوگیا ،پھر اس کے اور آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے درمیان سو سو اونٹ کی شرط لگ گئی