سورۂ روم
سورۂ روم کا تعارف
مقامِ نزول:
سورئہ روم مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے۔ (1)
آیات،کلمات اورحروف کی تعداد:
اس میں 6 رکوع،60 آیتیں ،819کلمے اور3534حروف ہیں ۔(2)
’’روم ‘‘نام رکھنے کی وجہ :
روم عیسائیوں کی مملکت کا نام ہے جس کا صدر مقام قسطنطنیہ تھا،اور اس سورت کی ابتدائی آیات میں یہ غیبی خبر دی گئی ہے کہ ابھی تو رومی مغلوب ہو گئے ہیں لیکن عنقریب چند سالوں میں وہ مجوسیوں پر غالب آ جائیں گے، ا س مناسبت سے اس کا نام’’سورۂ روم‘‘ رکھا گیا ۔
سورۂ روم کے مَضامین:
اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں الله تعالیٰ کی وحدانیَّت اور اس کی صفات، رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی رسالت پر ایمان لانے ،قیامت کے دن دوبارہ زندہ کئے جانے اور آخرت میں اعمال کی جزا ملنے کو بیان کیاگیا ہے۔نیز اس میں یہ چیزیں بیان کی گئی ہیں :
(1)…اس سورت کی ابتدا ایک غیبی خبر سے کی گئی ہے کہ رومی ایرانیوں سے مغلوب ہونے کے بعد چند سالوں میں الله تعالیٰ کی مدد سے ایرانیوں پر غالب آ جائیں گے۔قرآن پاک کی دی ہوئی یہ خبر حرف بہ حرف پوری ہوئی ، رومی چند سالوں بعد ایرانیوں پر غالب آ گئے اور انہوں نے عراق میں رومیہ نامی ایک شہر کی بنیاد رکھی۔قرآن پاک کی یہ غیبی خبر نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نبوت پر زبردست دلیل ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، تفسیر سورۃ الروم، ۳/۴۵۷۔
2…خازن، تفسیر سورۃ الروم، ۳/۴۵۷۔