نہایت تلخ اور ان کے بیچ میں پردہ رکھا اور روکی ہوئی آڑ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور وہی ہے جس نے دو سمندروں کو ملادیا (ان میں ) یہ (ایک) میٹھا نہایت شیریں ہے اور یہ (ایک) کھاری نہایت تلخ ہے اور ان کے بیچ میں اس نے ایک پردہ اور روکی ہوئی آڑ بنادی۔
{وَ هُوَ: اور وہی ہے۔} ارشاد فرمایا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ وہی ہے جس نے دو سمندروں کو ملادیا،ان میں سے ایک (کا پانی) میٹھا نہایت شیریں ہے اور دوسرے کا کھاری نہایت تلخ ہے اور ان دونوں کے بیچ میں اللہ تعالٰی نے اپنی قدرت سے نظر نہ آنے والا ایک پردہ اور روکی ہوئی آڑ بنادی تاکہ ایک کا پانی دوسرے میں مل نہ سکے یعنی نہ میٹھا کھاری ہو، نہ کھاری میٹھا، نہ کوئی کسی کے ذائقہ کو بدل سکے، جیسے کہ دجلہ دریائے شور میں میلوں تک بہتاچلا جاتا ہے اور اس کے ذائقہ میں کوئی تغیر نہیں آتا۔ (1) عجب شانِ الٰہی ہے۔
وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ مِنَ الْمَآءِ بَشَرًا فَجَعَلَهٗ نَسَبًا وَّ صِهْرًاؕ-وَ كَانَ رَبُّكَ قَدِیْرًا(۵۴)
ترجمۂکنزالایمان: اور وہی ہے جس نے پانی سے بنایا آدمی پھر اس کے رشتے اور سسرال مقرر کی اور تمہارا رب قدرت والا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور وہی ہے جس نے آدمی کوپانی سے بنایا پھر اس کے (نسلی) رشتے اور سسرالی رشتے بنادیے اور تمہارا رب بڑی قدرت والا ہے۔
{وَ هُوَ: اور وہی ہے۔} ارشاد فرمایا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ وہی ہے جس نے گوشت، ہڈیوں ،پٹھوں ، رگوں اور خون سے مرکب، اچھی صورت پر آدمی کوپانی یعنی نطفہ سے بنایا، پھر اس کے نسلی رشتے اور سسرالی رشتے بنادیے تاکہ اس کی نسل
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ابو سعود، الفرقان، تحت الآیۃ: ۵۳، ۴/۱۴۵۔