ترجمۂکنزالایمان: تو کافروں کا کہا نہ مان اور اس قرآن سے ان پر جہاد کر بڑا جہاد۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو آپ کافروں کی بات ہرگز نہ مانیں اور اس قرآن کے ذریعے ان کے ساتھ بڑا جہاد کریں ۔
{فَلَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ: تو آپ کافروں کی بات ہرگز نہ مانیں ۔} کفارِ قریش حضور سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے کہتے کہ آپ ہمارے آباء و اَجداد کا دین اختیار کرلیں ،ہم آپ کو اپنا بادشاہ تسلیم کر لیں گے اور آپ کے لئے ایک عظیم خزانہ جمع کر دیں گے۔ اللہ تعالٰی نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے فرمایا کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کافروں کی بات ہرگز نہ مانیں تاکہ ان پر اچھی طرح ظاہر ہو جائے کہ ان چیزوں کی طرف آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو کوئی رغبت نہیں بلکہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی رغبت اللہ تعالٰی کی طرف بلانے اور اس پر ایمان لانے کی دعوت دینے میں ہے۔(1)
{ وَ جَاهِدْهُمْ بِهٖ جِهَادًا كَبِیْرًا: اور اس قرآن کے ذریعے ان کے ساتھ بڑا جہاد کریں ۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ ان کے سامنے قرآن پاک میں موجود وعظ و نصیحت اور زجر و توبیخ پر مشتمل آیات کی تلاوت کر کے اور انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلانے والی سابقہ امتوں کے حالات بیان کر کے ان کے ساتھ بڑا جہاد کریں ۔ اس طور پر پوری دنیا میں دین کی دعوت عام کرنا جہادِ کبیر ہے اورکوئی دوسرا جہاد کَمِّیَّت و کیفیت کے اعتبار سے اس کے برابر نہیں ہوسکتا۔(2)
وَ هُوَ الَّذِیْ مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ هٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّ هٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌۚ-وَ جَعَلَ بَیْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا(۵۳)
ترجمۂکنزالایمان: اور وہی ہے جس نے ملے ہوئے رواں کیے دو سمندر یہ میٹھا ہے نہایت شیریں اور یہ کھاری ہے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…البحر المحیط، الفرقان، تحت الآیۃ: ۵۲، ۶/۴۶۴۔
2…ابوسعود، الفرقان، تحت الآیۃ: ۵۲، ۴/۱۴۴-۱۴۵، ملخصاً۔