اس سے معلوم ہوا کہ ہر جھوٹ برا ہے لیکن اگر جھوٹ کی نسبت کسی بڑی ہستی کی طرف کی جائے تو بڑا گناہ ہے، لہٰذا جھوٹی حدیث گھڑ کر یہ کہہ دینا کہ حضورپُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا ہے، سخت جرم ہے۔
وَ الَّذِیْنَ جَاهَدُوْا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَاؕ-وَ اِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ۠(۶۹)
ترجمۂکنزالایمان: اور جنہوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ضرور ہم انہیں اپنے راستے دکھادیں گے اور بیشک الله نیکوں کے ساتھ ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جنہوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ضرور ہم انہیں اپنے راستے دکھادیں گے اور بیشک الله نیکوں کے ساتھ ہے۔
{وَ الَّذِیْنَ جَاهَدُوْا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَا: اور جنہوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ضرور ہم انہیں اپنے راستے دکھا دیں گے۔} اس آیت کے معنی بہت وسیع ہیں ، اس لئے مفسرین نے مختلف انداز میں اسے تعبیر کیا ہے ۔ یہاں چار اَقوال بیان کئے جاتے ہیں ۔
(1)…حضرت عبد الله بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ،اس کے معنی یہ ہیں کہ جنہوں نے ہماری اطاعت کرنے میں کوشش کی ہم ضرور انہیں اپنے ثواب کے راستے دکھا دیں گے ۔
(2)…حضرت جنید رَحْمَۃُ الله تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :اس کے معنی یہ ہیں کہ جو لوگ توبہ کرنے میں کوشش کریں گے، ہم ضرور انہیں اخلاص کے راستے دکھا دیں گے۔
(3)… حضرت فضیل بن عیاض رَحْمَۃُ الله تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :اس کے معنی یہ ہیں کہ جو لوگ علم حاصل کرنے میں کوشش کریں گے ،ہم ضرور انہیں عمل کی راہیں دکھا دیں گے۔
(4)… حضرت سہل بن عبد الله رَحْمَۃُ الله تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :اس کے معنی یہ ہیں کہ جو سنت کو قائم کرنے میں کوشش کریں گے ہم انہیں جنت کے راستے دکھادیں گے۔ (1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مدارک، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۶۹، ص۸۹۹، خازن، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۶۹، ۳/۴۵۷، ملتقطاً۔