ہیں اور جب کوئی پریشان ُکن صورتِ حال پیش آتی ہے اور الله تعالیٰ اس سے رہائی دیتا ہے تو وہ اس کی اطاعت میں اور زیادہ سرگرم ہو جاتے ہیں ، مگر کافروں کا حال اس کے بالکل برخلاف ہے۔ لیکن افسوس! فی زمانہ مسلمانوں کاحال بھی کافروں کے پیچھے پیچھے ہی چل رہا ہے کہ جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو الله اللہ کرنے میں مشغول ہو جاتے ہیں اور بڑی عاجزی اور گریہ و زاری کے ساتھ اس کی بارگاہ میں ا س مصیبت سے نجات کی دعائیں کرتے ہیں اور جب الله تعالیٰ وہ مصیبت ان سے دور کر دیتا ہے تو پھر وہ الله تعالیٰ کی نافرمانی کرنے والی اپنی پرانی رَوِش پر عمل کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔ الله تعالیٰ ہم سب کو ہدایت اور عقلِ سلیم عطا فرمائے ،اٰمین۔
اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّ یُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْؕ-اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَةِ اللّٰهِ یَكْفُرُوْنَ(۶۷)
ترجمۂکنزالایمان: اور کیا انہوں نے یہ نہ دیکھا کہ ہم نے حرمت والی زمین پناہ بنائی اور اُن کے آس پاس والے لوگ اُچک لیے جاتے ہیں تو کیا باطل پر یقین لاتے ہیں اور الله کی دی ہوئی نعمت سے ناشکری کرتے ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور کیا انہوں نے یہ نہ دیکھا کہ ہم نے حرمت والی زمین، امن و امان والی بنائی اور ان کے آس پاس والے لوگ اچک لیے جاتے ہیں ۔تو کیا وہ باطل پر یقین کرتے ہیں اور الله کی نعمت کی ناشکری کرتے ہیں ۔
{اَوَ لَمْ یَرَوْا: اور کیا انہوں نے نہ دیکھا۔} ارشاد فرمایا کہ کیا مکہ والوں نے یہ نہ دیکھا کہ ہم نے ان کے شہر مکہ مکرمہ کی حرمت والی زمین،ا ن کے لئے امن و امان والی بنائی کہ اس سرزمین میں رہنے والے امن و امان سے رہتے ہیں جبکہ اُن کے آس پاس کے لوگ قتل بھی کئے جاتے اور گرفتاربھی ہوجاتے ہیں ، اِس امن و سکون کی نعمت پر توا نہیں الله کا شکر ادا کرنا چاہیے لیکن ان کی حالت یہ ہے کہ بتوں پر یقین رکھتے ہیں اورنبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے اور اسلام سے کفر کر کے الله تعالیٰ کی دی ہوئی نعمت کی ناشکری کرتے ہیں ۔(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مدارک، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۶۷، ص۸۹۹۔