فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ(۶۶)
ترجمۂکنزالایمان: پھر جب کشتی میں سوار ہوتے ہیں الله کو پکارتے ہیں ایک اسی پر عقیدہ لاکر پھر جب وہ انہیں خشکی کی طرف بچا لاتا ہے جبھی شرک کرنے لگتے ہیں ۔ کہ ناشکری کریں ہماری دی ہوئی نعمت کی اور برتیں تو اب جانا چاہتے ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: پھر جب لوگ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو اللهکو پکارتے ہیں اس حال میں کہ اسی کے لئے دین کو خالص کرتے ہیں پھر جب وہ انہیں خشکی کی طرف بچا کرلاتا ہے تواس وقت شرک کرنے لگتے ہیں ۔ تاکہ ہماری دی ہوئی نعمت کی ناشکری کریں اور تاکہ وہ فائدہ اٹھالیں تو عنقریب جان لیں گے۔
{فَاِذَا رَكِبُوْا فِی الْفُلْكِ: پھر جب لوگ کشتی میں سوار ہوتے ہیں ۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ زمانۂ جاہلِیّت کے لوگ بحری سفر کرتے وقت بتوں کوساتھ لے جاتے تھے ،دورانِ سفرجب ہوا مخالف چلتی اور کشتی ڈوب جانے کا خطرہ پیدا ہو جاتا تو وہ لوگ بتوں کو دریا میں پھینک دیتے اور یاربّ !یاربّ !پکارنے لگتے لیکن امن پانے کے بعد پھر اسی شرک کی طرف لوٹ جاتے ۔ان کی ا س حماقت کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ جب کافرلوگ کشتی میں سوار ہوتے ہیں اور سفر کے دوران انہیں ہوا مخالف سمت چلنے کی وجہ سے ڈوبنے کا اندیشہ ہوتا ہے تو اس وقت وہ اپنے شرک اور عناد کے باوجود بتوں کو نہیں پکارتے بلکہ الله تعالیٰ کو پکارتے ہیں اور اس وقت ان کا عقیدہ یہ ہوتا ہے کہ اس مصیبت سے صرف الله تعالیٰ ہی نجات دے گا ،پھر جب الله تعالیٰ انہیں ڈوبنے سے بچا کر خشکی کی طرف لاتا ہے اور ڈوب جانے کا اندیشہ اور پریشانی جاتی رہتی ہے اور انہیں اطمینان حاصل ہوجاتا ہے تواس وقت دوبارہ شرک کرنے لگ جاتے ہیں اور نتیجے کے طور پر وہ شرک کی صورت میں ہماری دی ہوئی نجات والی نعمت کی ناشکری کرتے ہیں تو عنقریب وہ اپنے کردار کا نتیجہ جان لیں گے۔(1)
مصیبت کے وقت مخلص مومن اور کافر کا حال:
یاد رہے کہ مخلص ایمان والوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ الله تعالیٰ کی نعمتوں کے اخلاص کے ساتھ شکر گزار رہتے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن،العنکبوت،تحت الآیۃ:۶۵-۶۶،۳/۴۵۶، روح البیان،العنکبوت،تحت الآیۃ:۶۵-۶۶،۶/۴۹۳-۴۹۴، ملتقطاً۔