(1)… حضرت سہل بن سعد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ایک مردار بکری کے پاس سے گزرے اورفرمایاکیاتم جانتے ہو کہ یہ بکری اپنے گھروالوں کے نزدیک کس قدر حقیر ہے؟ صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے عرض کی:جی ہاں ، (اس حقارت کی وجہ سے ہی انہوں نے اس کو پھینکا ہے) ارشادفرمایا،اس ذات کی قسم جس کے قبضہ ٔ قدرت میں میری جان ہے، جس قدریہ بکری اپنے گھروالوں کے نزدیک حقیرہے الله تعالیٰ کے نزدیک دنیااس سے بھی حقیراورہلکی ہے اوراگر الله تعالیٰ کے نزدیک دنیا کی مچھرکے پر برابربھی حیثیت ہوتی تو وہ اس سے کافر کو ایک گھونٹ بھی نہ پلاتا۔(1)
(2)… حضرت ابوموسیٰ اشعری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص اپنی دنیاسے محبت کرتاہے وہ اپنی آخرت کونقصان پہنچاتاہے اورجوآدمی اپنی آخرت سے محبت کرتاہے وہ اپنی دنیاکونقصان پہنچاتاہے ،پس فناہونے والی پرباقی رہنے والی کوترجیح دو۔(2)
(3)… حضرت ابو جعفر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اس آدمی پر انتہائی تعجب ہے جودائمی زندگی والے گھر (یعنی آخرت) کی تصدیق توکرتاہے لیکن کوشش دھوکے والے گھر (یعنی دنیا) کے لیے کرتاہے ۔(3)
الله تعالیٰ ہمیں دنیا کی رغبت سے محفوظ فرمائے اور اپنی آخرت کو بہتر سے بہتر بنانے کے لئے بھرپور کوشش کرنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
فَاِذَا رَكِبُوْا فِی الْفُلْكِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَﳛ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ اِذَا هُمْ یُشْرِكُوْنَۙ(۶۵) لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ ﳐ وَ لِیَتَمَتَّعُوْاٙ-
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ابن ماجہ، کتاب الزہد، باب مثل الدنیا، ۴/۴۲۷، الحدیث: ۴۱۱۰، مستدرک، کتاب الرقاق، نعمتان مغبون فیہما کثیر من الناس۔۔۔ الخ، ۵/۴۳۶، الحدیث: ۷۹۱۷۔
2…مسند امام احمد، مسند الکوفیین، حدیث ابی موسی الاشعری رضی اللّٰہ تعالی عنہ، ۷/۱۶۴، الحدیث: ۱۹۷۱۷۔
3…شعب الایمان، الحادی والسبعون من شعب الایمان۔۔۔ الخ، ۷/۳۴۸، الحدیث: ۱۰۵۳۹۔