Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
404 - 608
وَ مَا هٰذِهِ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَهْوٌ وَّ لَعِبٌؕ-وَ اِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ لَهِیَ الْحَیَوَانُۘ-لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ(۶۴)
ترجمۂکنزالایمان: اور یہ دنیا کی زندگی تو نہیں  مگر کھیل کود اور بیشک آخرت کا گھر ضرور وہی سچی زندگی ہے کیا اچھا تھا اگر جانتے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور یہ دنیا کی زندگی تو صرف کھیل کودہے اور بیشک آخرت کا گھر ضرور وہی سچی زندگی ہے۔کیا ہی اچھا تھا اگر وہ (یہ) جانتے۔
{وَ مَا هٰذِهِ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَهْوٌ وَّ لَعِبٌ: اور یہ دنیا کی زندگی تو صرف کھیل کودہے۔} ارشاد فرمایا کہ یہ دنیا کی زندگی تو صرف کھیل کودہے ، جیسے بچے گھڑی بھر کھیلتے ہیں ، کھیل میں  دل لگاتے ہیں  ،پھر اس سب کو چھوڑ کر چل دیتے ہیں  یہی حال دنیا کا ہے کہ انتہائی تیزی کے ساتھ زائل ہونے والی ہے اور موت یہاں  سے ایسے ہی جدا کر دیتی ہے جیسے کھیلنے والے بچے مُنتَشِر ہو جاتے ہیں  اور بیشک آخرت کا گھر ضرور وہی سچی زندگی ہے کہ وہ زندگی پائیدار ہے ، دائمی ہے، اس میں  موت نہیں  اورزندگانی کہلانے کے لائق بھی وہی ہے،کیا ہی اچھا تھا اگر وہ مشرک دنیا اور آخرت کی حقیقت جانتے، اگر ایسا ہوتا تو وہ فانی دنیا کو آخرت کی ہمیشہ رہنے والی زندگی پر ترجیح نہ دیتے۔(1)
دنیا کی مذمت پر مشتمل 3 اَحادیث:
	یاد رہے کہ دنیا کی مذمت کے بارے میں  قرآنِ پاک کی بہت سی آیات آئی ہیں  اورانبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کی تبلیغ کے مَقاصد میں  ایک مقصد دنیاکی محبت سے لوگوں  کو بچانا بھی تھا، اس لئے انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوموں  کے سامنے مختلف انداز میں  دنیا کی مذمت بیان فرمائی ، ہمارے آقا صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنی امت کے سامنے کیسے دنیا کی مذمت بیان فرمائی ،اس سے متعلق تین اَحادیث ملاحظہ ہوں ،
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مدارک، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۶۴، ص۸۹۸، خازن، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۶۴، ۳/۴۵۶، ملتقطاً۔