Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
401 - 608
طور پر اپنے رزق کی فکر نہیں  کرنی چاہئے بلکہ ساری مخلوق کو رزق سے نوازنے والے رب تعالیٰ پر بھروسہ رکھنا چاہئے، وہی حقیقی طور پر رزق دینے والا ہے اور وہ ہر جگہ اپنی مخلوق کو رزق دینے پر قدرت رکھتا ہے۔ حضرت عمربن خطاب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا’’اگر تم الله تعالیٰ پر ایسا توکل کرو جیسا ہونا چاہیے تو وہ تمہیں  ایسے روزی دے گا جیسے پرندوں  کو دیتا ہے کہ صبح بھوکے خالی پیٹ اُٹھتے ہیں  اور شام کوپیٹ بھرکر واپس آتے ہیں ۔(1)
	ہمارے معاشرے میں  یہ صورتِ حال انتہائی افسوسناک ہے کہ کچھ لوگ الله تعالیٰ اور اس کے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت کرتے ہوئے دین کے احکام پر عمل کرنا شروع کرتے ہیں  تو کچھ لوگ اپنی شفقت و نصیحت کے دریا بہاتے ہوئے انہیں  سمجھانا شروع کر دیتے ہیں  کہ بیٹا اگر تم نمازی اور پرہیز گار بن گئے اور داڑھی رکھ لی تو کمائی کس طرح کرو گے اور کماؤ گے نہیں  تو اپنا اور بیوی بچوں  کا پیٹ کس طرح پالو گے ،اسی طرح اگر تم دُنْیَوی علوم چھوڑ کر دین کا علم سیکھنے لگ جاؤ گے تو بھوکے مرو گے اور تمہیں  لوگوں  کے دئیے ہوئے صدقات و خیرات پر گزارا کرنا پڑے گا۔ اے کاش یہ لوگ اتنی بات سمجھ سکتے کہ حقیقی طور پر رزق دینے والا کوئی اور نہیں  بلکہ صرف الله تعالیٰ ہے اور وہ مخلوق پر اتنا مہربان ہے کہ اپنی نافرمانی کرنے والوں  کو بھی رزق سے محروم نہیں  کرتا بلکہ انہیں  بھی کثیر رزق عطا فرماتا ہے تو جو شخص الله تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری کرے گا اس پر الله تعالیٰ اپنے رزق کے دروازے کیسے بندکر دے گا،ہاں  اگر رزق میں  تنگی کر کے ا س کی آزمائش کرنا مقصود ہوا تو یہ دوسری بات ہے لیکن الله تعالیٰ اور اس کے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت رزق کی بندش کا سبب ہر گز نہیں  بلکہ رزق ملنے کا عظیم ذریعہ ہے ۔
وَ لَىٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُۚ-فَاَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ(۶۱)
ترجمۂکنزالایمان:  اور اگر تم اُن سے پوچھو کس نے بنائے آسمان اور زمین اور کام میں  لگائے سورج اور چاند تو ضرور
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترمذی، کتاب الزہد، باب فی التوکّل علی اللّٰہ، ۴/۱۵۴، الحدیث: ۲۳۵۱۔