وَ كَاَیِّنْ مِّنْ دَآبَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا ﰮ اَللّٰهُ یَرْزُقُهَا وَ اِیَّاكُمْ ﳲ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ(۶۰)
ترجمۂکنزالایمان: اور زمین پر کتنے ہی چلنے والے ہیں کہ اپنی روزی ساتھ نہیں رکھتے الله روزی دیتا ہے اُنہیں اور تمہیں اور وہی سنتا جانتا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور زمین پر کتنے ہی چلنے والے ہیں جو اپنی روزی ساتھ اٹھائے نہیں پھرتے (بلکہ) الله (ہی) انہیں اور تمہیں روزی دیتا ہے اور وہی سننے والا، جاننے والا ہے۔
{وَ كَاَیِّنْ مِّنْ دَآبَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا: اور زمین پر کتنے ہی چلنے والے ہیں جو اپنی روزی نہیں اٹھائے پھرتے۔} شانِ نزول: مکہ مکرمہ میں ایمان والوں کو مشرکین دن رات طرح طرح کی ایذائیں دیتے رہتے تھے۔تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اُن سے مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کرنے کو فرمایا تو اُن میں سے بعض نے عرض کی : ہم مدینہ شریف کیسے چلے جائیں ، نہ وہاں ہمارا گھر ہے نہ مال،وہاں ہمیں کون کھلائے اور پلائے گا؟ اس پر یہ آیت ِکریمہ نازل ہوئی اورارشاد فرمایا گیا کہ بہت سے جاندار ایسے ہیں جو اپنی روزی ساتھ نہیں رکھتے اور نہ ہی وہ اگلے دن کے لئے کوئی ذخیرہ جمع کرتے ہیں جیسا کہ چوپائے اور پرندے ، الله تعالیٰ ہی انہیں اور تمہیں روزی دیتا ہے لہٰذاتم جہاں بھی ہو گے وہی تمہیں روزی دے گا تو پھر یہ کیوں پوچھ رہے ہو کہ ہمیں کون کھلائے اور پلائے گا؟ساری مخلوق کو رزق دینے والا الله تعالیٰ ہے ،کمزور اور طاقتور، مقیم اور مسافر سب کو وہی روزی دیتا ہے اور وہی تمہارے اقوال کوسننے والا اور تمہارے دلوں کی بات کو جاننے والا ہے۔(1)
رزق کے معاملے میں الله تعالیٰ پر توکل کرنے کی ترغیب:
اس سے معلوم ہوا کہ الله تعالیٰ اور اس کے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت کے معاملے میں خاص
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۶۰، ۳/۴۵۵، مدارک، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۶۰، ص۸۹۷-۸۹۸، ملتقطاً۔