Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
39 - 608
کی رات کو بارش ہوئی تھی۔ جب فارغ ہوئے تو لوگوں  کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ’’کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ نے کیا فرمایا؟ صحابہ ٔ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے عرض کی: ’’اللہ تعالٰی اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بہتر جانتے ہیں ۔حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالٰی نے فرمایا: ’’میرے بندوں  نے صبح کی تو کچھ مومن رہے اور کچھ کافر ہو گئے، جس نے کہا ہم پر اللہ تعالٰی کے فضل اور اس کی رحمت سے بارش ہوئی تو وہ مجھ پر ایمان رکھنے والا ہے اور جس نے کہا ہم پر فلاں  ستارے نے بارش برسائی اس نے میرے ساتھ کفر کیا اور ستاروں  پر یقین رکھا۔(1) حدیث پاک میں  کفر سے مراد حقیقی کفر اس صورت میں  ہے جب ستاروں  کو مُؤثِّرِ  حقیقی اعتقاد کرکے یہ بات کہی گئی ہو۔ 
وَ لَوْ شِئْنَا لَبَعَثْنَا فِیْ كُلِّ قَرْیَةٍ نَّذِیْرًا٘ۖ(۵۱)
ترجمۂکنزالایمان: اور ہم چاہتے تو ہر بستی میں  ایک ڈر سنانے والا بھیجتے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اگرہم چاہتے تو ہر بستی میں  ایک ڈر سنانے والا بھیج دیتے۔
{وَ لَوْ شِئْنَا: اور اگرہم چاہتے۔} ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اگر ہم چاہتے تو پہلے زمانے کی طرح ہر بستی اور شہر میں  ایک جداجداڈر سنانے والا بھیج دیتے اور آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر سے ڈر سنانے کا بوجھ کم کردیتے لیکن ہم نے تمام بستیوں  کو ڈر سنانے کا بوجھ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہی پر رکھا تاکہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تمام جہان کے رسول ہو کر سب رسولوں  عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی فضیلتوں  کے جامع ہوں  اور نبوت آپ پر ختم ہو کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بعد پھر کوئی نبی نہ ہو۔(2)
فَلَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ جَاهِدْهُمْ بِهٖ جِهَادًا كَبِیْرًا(۵۲)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بخاری، کتاب الاذان، باب یستقبل الامام الناس اذا سلّم، ۱/۲۹۵، الحدیث: ۸۴۶۔
2…روح البیان، الفرقان، تحت الآیۃ: ۵۱، ۶/۲۲۶۔