Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
397 - 608
گا کہ اے کافرو!اب تم دنیا میں  اپنے کئے ہوئے اعمال کی سزا کا مزہ چکھو تو ا س دن تم الله تعالیٰ کے عذاب سے بھاگ نہیں  سکو گے ۔(1)
یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ اَرْضِیْ وَاسِعَةٌ فَاِیَّایَ فَاعْبُدُوْنِ(۵۶)
ترجمۂکنزالایمان: اے میرے بندوجو ایمان لائے بیشک میری زمین وسیع ہے تو میری ہی بندگی کرو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے میرے مومن بندو! بیشک میری زمین وسیع ہے تو میری ہی بندگی کرو۔
{یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا: اے میرے مومن بندو!} اس آیت کا معنی یہ ہے کہ جب مومن کو کسی سرزمین میں  اپنے دین پر قائم رہنا اور عبادت کرنا دشوار ہو تو اسے چاہئے کہ وہ ایسی سرزمین کی طرف ہجرت کرجائے جہاں  آسانی سے عبادت کر سکے اور وہاں  دین کی پابندی میں  دشواریاں  درپیش نہ ہوں  ۔شانِ نزول:یہ آیت مکہ مکرمہ میں  موجود ان کمزور مسلمانوں  کے حق میں  نازل ہوئی جنہیں  وہاں  رہ کر اسلام کو ظاہر کرنے میں  خطرے اور تکلیفیں  تھیں  اور وہ انتہائی تنگی میں  تھے، انہیں  حکم دیا گیا کہ میری بندگی تو ضروری ہے، یہاں  رہ کر نہیں  کر سکتے تو مدینہ شریف کی طرف ہجرت کر جاؤ،وہ وسیع ہے اور وہاں  امن بھی ہے ۔(2)
	نوٹ:ہجرت سے متعلق احکام کی معلومات حاصل کرنے کے لئے سورہِ نساء ،آیت نمبر97کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں ۔
كُلُّ نَفْسٍ ذَآىٕقَةُ الْمَوْتِ- ثُمَّ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ(۵۷)
ترجمۂکنزالایمان: ہر جان کو موت کا مز ہ چکھنا ہے پھر ہماری ہی طرف پھروگے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تفسیرکبیر،العنکبوت، تحت الآیۃ:۵۴-۵۵، ۹/۶۸، روح البیان، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۵۴-۵۵، ۶/۴۸۵، جلالین، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۵۴-۵۵، ص۳۳۹، ملتقطاً۔
2…مدارک، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۵۶، ص۸۹۷، خازن، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۵۶، ۳/۴۵۴-۴۵۵، ملتقطاً۔