کی بارش کروادو ۔اس پر الله تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، یہ کافر آپ سے جلد عذاب نازل ہونے کا مطالبہ کرتے ہیں اور اگر عذاب نازل ہونے کی ایک مقررہ مدت نہ ہوتی جو الله تعالیٰ نے مُعَیَّن کی ہے اور جو حکمت کے تقاضے کے مطابق ہے توان کے مطالبہ کرتے ہی ضرور ان پر عذاب آجاتا اور اس میں کوئی تاخیر نہ ہوتی لیکن چونکہ اب ان کیلئے ایک مدت مقرر ہے توجب وہ مدت پوری ہو جائے گی تو ضرور ان پر اچانک عذاب آئے گا اور انہیں ا س کی خبر بھی نہ ہوگی۔ (1)
وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِؕ-وَ لَوْ لَاۤ اَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَآءَهُمُ الْعَذَابُؕ-وَ لَیَاْتِیَنَّهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ(۵۳)یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِؕ-وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِیْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَۙ(۵۴)
ترجمۂکنزالایمان: تم سے عذاب کی جلدی مچاتے ہیں اور بیشک جہنم گھیرے ہوئے ہے کافروں کو۔ جس دن اُنہیں ڈھانپے گا عذاب اُن کے اوپر اور اُن کے پاؤں کے نیچے سے اور فرمائے گا چکھو اپنے کئے کا مزہ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم سے عذاب کی جلدی مچاتے ہیں اور بیشک جہنم کافروں کوگھیرنے والی ہے۔ جس دن عذاب انہیں ان کے اوپر سے اور ان کے پاؤں کے نیچے سے ڈھانپ لے گا اور ( الله) فرمائے گا:اپنے اعمال کا مزہ چکھو۔
{وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ: تم سے عذاب کی جلدی مچاتے ہیں ۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، یہ کفار آپ سے جلد عذاب نازل ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں حالانکہ جہنم کا عذاب کافروں کو گھیرے ہوئے ہے اور ان میں سے کوئی بھی جہنم کے عذاب سے نہیں بچے گا! اور جس دن عذاب کافروں کوان کے اوپر سے اور ان کے پاؤں کے نیچے سے یعنی ہر طرف سے ڈھانپ لے گااور الله تعالیٰ ارشاد فرمائے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۵۳، ۳/۴۵۴، مدارک، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۵۳، ص۸۹۶، ملتقطاً۔