اور وہ جو باطل پر یقین لائے اور الله کے منکر ہوئے وہی گھاٹے میں ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم فرماؤ: میرے اور تمہارے درمیان الله کافی گواہ ہے، وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور باطل پر ایمان لانے والے اور الله کے منکرہی نقصان اٹھانے والے ہیں ۔
{قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ شَهِیْدًا: تم فرماؤ: میرے اور تمہارے درمیان الله کافی گواہ ہے۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اگر آپ کی نبوت کا انکار کرنے والے لوگ قرآنِ پاک کے نازل ہونے کے بعد بھی آپ کی رسالت کوتسلیم نہ کریں تویہ ان کی بدبختی ہے، آپ ان سے فرمادیجئے کہ میرے اورتمہارے درمیان میری رسالت کے سچے ہونے اور تمہارے جھٹلانے پر الله تعالیٰ گواہ ہے ، وہ آسمانوں اورزمین کی ہرچیز کا علم رکھتا ہے اور جس کا علم جتنا کامل ہو اُس کی گواہی بھی اتنی ہی کامل ہوتی ہے اوریقینا کامل ترین علم الله تعالیٰ کا ہے تو گواہی بھی اسی کی کامل ترین ہے اور یاد رکھو کہ باطل پر ایمان لانے والے اور الله تعالیٰ کے منکرہی نقصان پانے والے ہیں ۔
وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِؕ-وَ لَوْ لَاۤ اَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَآءَهُمُ الْعَذَابُؕ-وَ لَیَاْتِیَنَّهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ(۵۳)
ترجمۂکنزالایمان: اور تم سے عذاب کی جلدی کرتے ہیں اور اگر ایک ٹھہرائی مدت نہ ہوتی تو ضرور ان پر عذاب آجاتا اور ضرور ان پر اچانک آئے گا جب وہ بے خبر ہوں گے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور تم سے عذاب کی جلدی مچاتے ہیں اور اگر ایک مقررہ مدت نہ ہوتی تو ضرور ان پر عذاب آجاتا اور ضرور ان پر اچانک عذاب آئے گا اور انہیں خبر بھی نہ ہوگی۔
{وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ: اور تم سے عذاب کی جلدی مچاتے ہیں ۔} شانِ نزول:یہ آیت نضر بن حارث کے بارے میں نازل ہوئی جس نے تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے کہا تھا کہ ہمارے اوپر آسمان سے پتھروں