اَوَ لَمْ یَكْفِهِمْ اَنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ یُتْلٰى عَلَیْهِمْؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَرَحْمَةً وَّ ذِكْرٰى لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠(۵۱)
ترجمۂکنزالایمان: اور کیا یہ اُنہیں بس نہیں کہ ہم نے تم پر کتاب اُتاری جو اُن پر پڑھی جاتی ہے بیشک اس میں رحمت اور نصیحت ہے ایمان والوں کے لیے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور کیا انہیں یہ بات کافی نہیں کہ ہم نے تم پر کتاب اُتاری جو ان پر پڑھی جاتی ہے بیشک اس میں ایمان والوں کے لیے رحمت اور نصیحت ہے۔
{اَوَ لَمْ یَكْفِهِمْ: اور کیا انہیں یہ بات کافی نہیں ۔} اس آیت میں کفارِ مکہ کے اعتراض کا جواب دیاگیاہے اور ا س کا معنی یہ ہے کہ قرآنِ کریم معجزہ ہے ، گزشتہ اَنبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے معجزات سے زیا دہ کامل ہے اور حق کے طلبگار کو تمام نشانیوں سے بے نیاز کرنے والا ہے کیونکہ جب تک زمانہ ہے قرآنِ کریم باقی اور ثابت رہے گا اور دوسرے معجزات کی طرح ختم نہ ہو گا ۔(1)یعنی دیگر انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے معجزات قصہ بن کر رہ گئے ہیں مگر یہ قرآن ایسا جیتا جاگتا معجزہ ہے جو ہمیشہ دیکھا جاتا رہے گا،اس پر ایمان نہ لانا انتہائی بد نصیبی ہے۔
قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ شَهِیْدًاۚ-یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْبَاطِلِ وَ كَفَرُوْا بِاللّٰهِۙ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ(۵۲)
ترجمۂکنزالایمان: تم فرماؤاللہ بس ہے میرے اور تمہارے درمیان گواہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۵۱، ۳/۴۵۴۔