کے سچے اور آخری رسول ہونے کو جان اور پہچان چکے لیکن آپ سے عناد کی وجہ سے آپ کے منکر ہوتے ہیں۔
اس آیت ِمبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ علماء اور حُفّاظ کا بڑا ہی درجہ ہے کہ ان کے سینے قرآن کریم کے گنجینے ہیں ۔ جس کاغذ پر قرآنِ مجیدلکھا جائے وہ عظمت والا ہے تو جس سینے میں قرآنِ پاک ہو وہ بھی عظمت والا ہے۔نیز یہ بھی سمجھ آتا ہے کہ قرآنِ عظیم میں کبھی تحریف نہیں ہو سکتی کیونکہ تبدیلی اور تحریف کاغذ میں ہوسکتی ہے جبکہ قرآن تو خدا نے سینوں میں محفوظ کردیا ہے۔
وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیٰتٌ مِّنْ رَّبِّهٖؕ-قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰهِؕ-وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ(۵۰)
ترجمۂکنزالایمان: اور بولے کیوں نہ اُتریں کچھ نشانیاں اُن پر ان کے رب کی طرف سے تم فرماؤ نشانیاں تو الله ہی کے پاس ہیں اور میں تو یہی صاف ڈر سنانے والا ہوں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اورکفار نے کہا:اس پر اس کے رب کی طرف سے نشانیاں کیوں نہیں اتریں ؟تم فرماؤ :نشانیاں تو الله ہی کے پاس ہیں اور میں تو یہی صاف ڈر سنانے والا ہوں ۔
{وَ قَالُوْا: اور کفار نے کہا۔} یہاں سے کفارِ مکہ کا ایک اور اعتراض ذکر کیا جا رہاہے ،چنانچہ کفارِ مکہ نے کہا کہ اس نبی پر ان کے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اونٹنی،حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے عصا اور حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دستر خوان کی طرح نشانیاں کیوں نہیں اُتریں ؟ الله تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ ان کافروں سے ارشاد فرما دیں : نشانیاں تو الله تعالیٰ ہی کے پاس ہیں اور وہ حکمت کے مطابق جو نشانی چاہتا ہے نازل فرماتا ہے اور میری ذمہ داری یہ ہے کہ میں نافرمانی کرنے والوں کو الله تعالیٰ کے عذاب کا صاف ڈر سنا دوں اور میں اسی کا پابند ہوں ۔ (1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۵۰، ۳/۴۵۴، مدارک، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۵۰، ص۸۹۶، ملتقطاً۔