وَ لَقَدْ صَرَّفْنٰهُ بَیْنَهُمْ لِیَذَّكَّرُوْا ﳲ فَاَبٰۤى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا(۵۰)
ترجمۂکنزالایمان: اور بیشک ہم نے ان میں پانی کے پھیرے رکھے کہ وہ دھیان کریں تو بہت لوگوں نے نہ مانا مگر ناشکری کرنا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور بیشک ہم نے لوگوں میں بارش کے پھیرے رکھے تاکہ وہ یاد رکھیں تو بہت سے لوگوں نے ناشکری کے سوا کچھ اور ماننے سے انکار کردیا۔
{وَ لَقَدْ صَرَّفْنٰهُ بَیْنَهُمْ: اور بیشک ہم نے لوگوں میں بارش کے پھیرے رکھے۔} اس آیت کا ایک معنی یہ ہے کہ ہم نے بادل پیدا کرنے اور بارش نازل کرنے کا ذکر قرآن پاک (کی متعدد سورتوں ) میں اور سابقہ رسولوں پر نازل ہونے والی تمام کُتب میں کیا تاکہ لوگ غوروفکر کر کے نصیحت حاصل کریں اور اللہ تعالٰی کے اس احسان کو پہچان کر اس کا شکر ادا کریں لیکن بہت سے لوگوں نے نعمت کی ناشکری کے سوا کچھ اور ماننے سے انکار کردیا۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ بیشک ہم نے لوگوں میں بارش کے پھیرے رکھے کہ کبھی کسی شہر میں بارش ہو کبھی کسی میں ، کبھی کہیں زیادہ ہو اور کبھی کہیں حکمت کے تقاضے کے مطابق مختلف طور پر ہو تاکہ لوگ ہمارے اس احسان کویاد رکھیں اور اللہ تعالٰی کی قدرت و نعمت میں غور کریں لیکن بہت سے لوگوں نے ا س ا حسان کی ناشکری کرنے کے سوا کچھ اور ماننے سے انکار کردیا کیونکہ وہ بارش کے نزول کو صرف ظاہری اسباب کی طرف منسوب کرنے لگ گئے اور اللہ تعالٰی کے فضل و رحمت کو یاد نہ کیا۔(1)
اللہ تعالٰی کی نعمت ملنے کو صرف مادی اسباب کی طرف منسوب نہیں کرنا چاہئے :
اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالٰی کی نعمت ملنے کو صرف مادی اسباب کی طرف منسوب نہیں کرنا چاہئے یوں کہ اللہ تعالٰی کی طرف اصلاً اس کی نسبت نہ ہو کہ یہ بھی بعض اوقات ایک قسم کی ناشکری ہے اور بطورِ خاص کفار جن چیزوں کو حقیقی مُؤثِّر مان کر نسبت کرتے ہیں ان کی طرف تو تنہا نسبت ہرگز نہیں کرنی چاہیے۔ حضرت زیدبن خالد جہنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ہمیں رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حُدَیْبیہ کے مقام پر صبح کی نماز فجر پڑھائی جس
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مدارک، الفرقان، تحت الآیۃ: ۵۰، ص۸۰۶، خازن، الفرقان، تحت الآیۃ: ۵۰، ۳/۳۷۵-۳۷۶، ملتقطاً۔