Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
389 - 608
تمہاری طرف نازل کیا گیا اور ہمارا اورتمہارا معبود ایک ہے اور وہ الله تعالیٰ ہے جس کا کوئی شریک نہیں  اور ہم صرف اسی کے فرمانبردار ہیں ۔(1)  
اہل ِکتاب اپنی کتابوں  کا مضمون بیان کریں  تو سننے والے کو کیا کہناچاہے؟
	جب اہل ِکتاب کسی شخص سے اپنی کتابوں  میں  موجود کوئی مضمون بیان کریں  تو اسے سننے والے کو کیا کہنا چاہئے وہ اس آیت میں  بیان ہوا اور یہی بات حدیث ِپاک میں  ایک اور انداز سے بیان کی گئی ہے ،چنانچہ حضرت ابونملہ انصاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں  کہ ایک مرتبہ ہم نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں  حاضرتھے اورایک یہودی شخص بھی وہیں  موجودتھا،اس دوران وہاں  سے ایک جنازہ گزرا تویہودی نے حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے کہا:کیایہ مردہ باتیں  کرتاہے؟رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ الله تعالیٰ بہتر جاننے والا ہے۔ یہودی کہنے لگا:بے شک یہ باتیں  کرتاہے ۔یہ سن کر سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اے لوگو! جب اہل ِکتاب تم سے کوئی مضمون بیان کریں  تو تم نہ اُن کی تصدیق کرو نہ تکذیب کرو بلکہ یہ کہہ دو کہ ہم الله تعالیٰ پر اور اس کی کتابوں  پراور اس کے رسولوں  عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر ایمان لائے، تو (اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ) اگر وہ مضمون اُنہوں  نے غلط بیان کیا ہے تو اس کی تصدیق کے گناہ سے تم بچے رہو گے اور اگر مضمون صحیح تھا تو تم اس کی تکذیب سے محفوظ رہو گے۔(2)
	یاد رہے کہ ہمارا ایمان قرآن کے علاوہ دیگر کتابوں  پر بھی ہے لیکن عمل صرف قرآن پر ہے نیز دیگر کتابوں  پر جو ایمان ہے وہ ان پر ہے جو الله تعالیٰ نے نازل فرمائیں ، موجودہ تحریف شدہ کتابوں  پر نہیں  بلکہ ان پر یوں  ہے کہ اِن کتابوں  میں  جو الله تعالیٰ کا کلام ہے ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں  ۔ 
وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَؕ-فَالَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖۚ-وَ مِنْ هٰۤؤُلَآءِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِهٖؕ-وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الْكٰفِرُوْنَ(۴۷)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۴۶، ۳/۴۵۳، روح البیان، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۴۶، ۶/۴۷۷، ملتقطاً۔
2…سنن ابو داؤد،کتاب العلم، باب روایۃ حدیث اہل الکتاب،۳/۴۴۵،الحدیث: ۳۶۴۴، مسند احمد، مسند الشامیین، حدیث ابی نملۃ الانصاری رضی اللّٰہ تعالی عنہ، ۶/۱۰۲، الحدیث: ۱۷۲۲۵۔