ترجمۂکنزالایمان: اور اے محبوب یونہی تمہاری طرف کتاب اُتاری تو وہ جنہیں ہم نے کتا ب عطا فرمائی اس پر ایمان لاتے ہیں اور کچھ ان میں سے ہیں جو اس پر ایمان لاتے ہیں اور ہماری آیتوں سے منکر نہیں ہوتے مگر کافر۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اے حبیب!یونہی ہم نے تمہاری طرف کتاب نازل فرمائی تو وہ جنہیں ہم نے کتا ب عطا فرمائی وہ اِس پر ایمان لاتے ہیں ، اور کچھ اِن دوسروں میں سے ہیں جو اس پر ایمان لاتے ہیں ، اورکافر ہی ہماری آیتوں کا انکار کرتے ہیں ۔
{وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ: اور اے محبوب! یونہی ہم نے تمہاری طرف کتاب نازل فرمائی۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، ہم نے آپ کی طرف اسی طرح قرآن مجید نازل فرمایا جیسے اہل ِکتاب کی طرف توریت وغیرہ کتابیں اُتاری تھیں ،تو وہ لوگ جنہیں ہم نے توریت عطا فرمائی جیسے کہ حضرت عبد الله بن سلام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ اور ان کے ساتھی،وہ اِس قرآن پر ایمان لاتے ہیں ، اور کچھ اِن مکہ والوں میں سے بھی ہیں جو اس پر ایمان لاتے ہیں ، اور وہی کافر ہی ہماری آیتوں کاانکار کرتے ہیں جو کفر میں انتہائی سخت ہیں ۔(1)
آیت ’’وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ‘‘ سے متعلق دو باتیں :
یہاں اس آیت سے متعلق دو باتیں ملاحظہ ہوں ،
(1)…یہ سورت مکیہ ہے اور حضرت عبد الله بن سلام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ اور ان کے ساتھی مدینہ منورہ میں ایمان لائے، الله تعالیٰ نے یہاں ان کے ایمان لانے سے پہلے ان کی خبر دے دی،تو یہ غیبی خبروں میں سے ہے۔(2)
(2)…جُحُود اس انکار کو کہتے ہیں جو معرفت کے بعد ہو یعنی جان بوجھ کر مکرجانا اور حقیقت بھی یہی تھی کہ یہودی خوب پہچانتے تھے کہ رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اللہ تعالیٰ کے سچّے نبی ہیں اور قرآن حق ہے، یہ سب کچھ جانتے ہوئے انہوں نے عِناد کی وجہ سے انکار کیا ۔(3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مدارک، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۴۷، ص۸۹۵، جلالین، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۴۷، ص۳۳۹، ملتقطاً۔
2…جمل، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۴۷، ۶/۷۷۔
3…خازن، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۴۷، ۳/۴۵۳۔